Tafseer-e-Baghwi - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے
39، ھذا عطاء نا، ہم نے ان کو کہا کہ یہ ہماری طرف سے عطاء کردہ تھا۔ ، فامنن او امسک ، فامنن سے مراد احسان ہے کہ اب یہ ہماری طرف سے آپ کے اوپر احسان ہے۔ آپ جس کو چاہیں دے دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ ، بغیر حساب ، اس میں کوئی حرج نہیں کہ آپ جس کو چاہیں عطاکریں اور جس سے چاہیں روک لیں۔ حسن کا قول ہے اللہ نے جس کسی کو نعمت سے سرفراز کیا آخرکاروہ نعمت اس کے لیے انجام بدبن گئی سوائے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کیوں کہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی کو دیں تو ان کو ثواب ملے گانہ دیں تو انجام میں مؤ اخذ ہ نہ ہوگا۔ مقاتل نے کہا، ھذاعطاء نا، کا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی جنات کی تسخیر ہمارا خاص عطیہ ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے جس کو تم چاہوچھوڑدو اور جس کو اپنی بندش میں رکھنا چاہو چھوڑنے اور بندر کھنے کا تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔
Top