Asrar-ut-Tanzil - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
(اور ہم نے کہا) یہ ہے ہماری بےحساب بخشش خواہ آپ کسی کو دیں یا نہ دیں
ھذا عطاؤنا سلیمان ( علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا، یہ ہماری بےحساب نعمت ہے، خواہ آپ کسی کو دیں یا نہ دیں، ہر طرح سے آپ کو مختار کیا گیا اور اس پر موقوف نہیں، آخرت میں بھی سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے ہمارے پاس بلند مرتبہ اور عمدہ ٹھکانا ہے، یعنی جنت جسمانی و روحانی۔ جو لوگ وجود جن اور خرق عادات کے قائل نہیں وہ ہوا کے مسخر ہونے کے یہ معنے کہتے ہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے دریائِ قلزم کے کنارے پر جو ادوم کی سرزمین ہے، جہازوں کی بحر بنائی اور حیرام نے اس بحر میں اپنے جاکر ملاح جو سمندر کے حال سے آگاہ تھے، ان کے ساتھ بھجوائے، وہ اوفیر جاکر سونا لاتے تھے۔ جہاز ہوا سے چلا کرتے تھے اور ہوا سلیمان ( علیہ السلام) کے ارادے کے موافق جہازوں کو لے کر آتی جاتی تھی اور شیاطین و جن وہ غیر قوموں کے لوگ جو تعمیر وغیرہ کاموں میں لگے ہوئے تھے اور سرکش قید میں پڑے تھے۔ استعارہ کے طور ان کی بددینی و سرکشی کی وجہ سے ان کو شیاطین و جن سے تعبیر کیا گیا۔ وفیہ ضعف ظاہر۔
Top