Dure-Mansoor - Al-Baqara : 211
سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
سَلْ : پوچھو بَنِىْٓ اِسْرَآءِ يْلَ : بنی اسرائیل كَمْ : کس قدر اٰتَيْنٰھُمْ : ہم نے انہیں دیں مِّنْ : سے اٰيَةٍ : نشانیاں بَيِّنَةٍ : کھلی وَ : اور مَنْ : جو يُّبَدِّلْ : بدل ڈالے نِعْمَةَ : نعمت اللّٰهِ : اللہ مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد مَا : جو جَآءَتْهُ : آئی اس کے پاس فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ شَدِيْدُ : سخت الْعِقَابِ : عذاب
آپ بنی اسرائیل سے دریافت فرمائیے ہم نے ان کو کتنی واضح دلیلیں دیں اور جو شخص اللہ کی نعمت کو بدل دے اس کے بعد کہ نعمت اس کے پاس آجائے تو بیشک اللہ سخت عذاب والا ہے
(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی اسرائیل سے یہودی مراد ہیں۔ لفظ آیت ” کم اتینھم من ایۃ بینۃ “ وہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائیں اور جو نہیں ذکر فرمائیں لفظ آیت ” کم اتینتم من ایۃ بینۃ “ یعنی جو اس (نعمت) کا انکار کرے گا۔ (2) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو واضح نشانیاں عطا فرمائیں تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور ان کا ہاتھ چمکنا اور ان کے لئے دریا کو پھاڑ دینا۔ اور ان کے دشمن کا غرق کردینا۔ اور وہ (یعنی بنی اسرائیل) اس کو دیکھ رہے تھے۔ اور ان پر بادل کا سایہ کرنا اور ان پر من اور سلویٰ کا نازل کرنا لفظ آیت ” کم اتینھم من ایۃ بینۃ “ اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدل دیا تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی۔
Top