Tafseer-e-Madani - Saad : 23
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ
اِنَّ ھٰذَآ : بیشک یہ اَخِيْ ۣ : میرا بھائی لَهٗ : اس کے پاس تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ : ننانوے نَعْجَةً : دنبیاں وَّلِيَ : اور میرے پاس نَعْجَةٌ : دنبی وَّاحِدَةٌ ۣ : ایک فَقَالَ : پس اس نے کہا اَكْفِلْنِيْهَا : وہ میرے حوالے کردے وَعَزَّنِيْ : اور اس نے مجھے دبایا فِي الْخِطَابِ : گفتگو میں
(پھر ایک نے صورت مقدمہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ تو وہ بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے مجھے دبا لیا گفتگو میں
30 فریقین کے جھگڑے کی تفصیل کا ذکر : سو ان دونوں فریقوں میں سے ایک نے جھگڑے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ " یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے۔ اور اس نے مجھے دبا لیا اپنی گفتگو میں "۔ اور اپنی چرب لسانی کی وجہ سے یہ میری ایک نہیں چلنے دیتا۔ آگے رہ جاتی ہے یہ بات کہ آیا یہ مقدمہ فرضی تھا یا واقعی۔ اور یہ دونوں شخص دو آدمی تھے یا آدمیوں کی صورت میں دو فرشتے ؟ اس بارے میں حضرات اہل علم سے دونوں قول منقول ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ دو انسان ہی تھے جو ایسا مقدمہ لے کر آئے تھے جو ان کے یہاں واقعتہً پیش آیا تھا۔ جبکہ بعض کے نزدیک یہ دو فرشتے تھے جو انسانی شکل میں آئے تھے۔ اور یہی زیادہ مشہور ہے۔ سو یہ مقدمہ واقعتہً پیش نہیں آیا تھا بلکہ یہ ایک تمثیل تھی حق اور حقیقت کی توضیح کے لئے۔ (قرطبی، مدارک، خازن اور روح وغیرہ) ۔ سو انہوں نے یہ مقدمہ حضرت داؤد کی خدمت میں پیش کیا۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ اس زمانے میں اس علاقے کی اصل دولت بھیڑوں اور دنبیوں ہی سے عبارت تھی۔ اور خود حضرت داؤد کی زندگی بھی بادشاہی سے پہلے بھیڑسالے اور بھیڑوں کے چرانے ہی میں گزری تھی۔ یہاں تک کہ تاریخی روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے سکے پر بھی دنبی کی تصویر تھی۔ بہرکیف اس شخص نے اپنا مقدمہ پیش کردیا۔
Top