Tafheem-ul-Quran - Saad : 23
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
یہ میرا بھائی ہے، 23 اِس کے پاس ننّانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔ اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دُنبی بھی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا۔“ 24
سورة صٓ 24 آگے کی بات سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی ضروری ہے کہ استغاثہ کا یہ فریق یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ اس شخص نے میری وہ ایک دنبی چھین لی اور اپنی دنبیوں میں ملا لی، بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ مجھ سے میری دنبی مانگ رہا ہے، اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا ہے، کیونکہ یہ بڑی شخصیت کا آدمی ہے اور میں ایک غریب آدمی ہوں، میں اپنے اندر اتنی سکت نہیں پاتا کہ اس کا مطالبہ رد کر دوں۔
Top