Kashf-ur-Rahman - Saad : 23
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ
اِنَّ ھٰذَآ : بیشک یہ اَخِيْ ۣ : میرا بھائی لَهٗ : اس کے پاس تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ : ننانوے نَعْجَةً : دنبیاں وَّلِيَ : اور میرے پاس نَعْجَةٌ : دنبی وَّاحِدَةٌ ۣ : ایک فَقَالَ : پس اس نے کہا اَكْفِلْنِيْهَا : وہ میرے حوالے کردے وَعَزَّنِيْ : اور اس نے مجھے دبایا فِي الْخِطَابِ : گفتگو میں
جھگڑایہ ہے کہ یہ شخص میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے سو یہ کہتا ہے کہ وہ اپنی ایک دنبی بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ کو دبا لیتا ہے۔
(23) جھگڑایہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نینانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ پس یہ کہتا ہے وہ ایک دنبی اپنی بھی میرے سپرد کردے اور میرے حوالے کردے اور زبردستی اور سختی کرتا ہے میرے ساتھ بات کرنے اور گفتگو کرنے میں مجھ کو دبا لیتا ہے۔ یعنی یہ میرا بھائی ہے دین میں یا ملاقاتی بھائی ہے، بہرحال ! اس کے پاس نینانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک دنبی بھی میں اس کے حوالے کردوں اور گفتگو میں اپنی منہ زوری سے مجھ کو دبا لیتا ہے۔ حضرت دائود کی عبادت میں جو خلل واقع ہوا اور توجہ بٹ گئی پھر ان لوگوں کا اس طرح بےموقع آنا اس پریشانی میں مقدمہ کی طرح نہ کرسکے اور پریشانی کی حالت میں ایک فریق مظلوم کی بات سن کر فرمانے لگے۔
Top