Ruh-ul-Quran - Saad : 23
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ
اِنَّ ھٰذَآ : بیشک یہ اَخِيْ ۣ : میرا بھائی لَهٗ : اس کے پاس تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ : ننانوے نَعْجَةً : دنبیاں وَّلِيَ : اور میرے پاس نَعْجَةٌ : دنبی وَّاحِدَةٌ ۣ : ایک فَقَالَ : پس اس نے کہا اَكْفِلْنِيْهَا : وہ میرے حوالے کردے وَعَزَّنِيْ : اور اس نے مجھے دبایا فِي الْخِطَابِ : گفتگو میں
بیشک یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، پس میرے اس بھائی نے کہا کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور جھگڑے میں اس نے مجھے دبا لیا
اِنَّ ھٰذَآ اَخِیْقف لَہٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَۃً وَّلِیَ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ قف فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ۔ (صٓ: 23) (بیشک یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، پس میرے اس بھائی نے کہا کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور جھگڑے میں اس نے مجھے دبا لیا۔ ) تنازع کی تفصیل ان دونوں کے درمیان جو تنازع چل رہا تھا یہ اس کی تفصیل ہے۔ جس فریق کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اس نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ جو میرے ساتھ دوسرا فریق ہے یہ میرا بھائی ہے، بھائی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ میرا دینی بھائی ہے یا ہم ایک ہی جگہ کے رہنے والے ہیں یا ہماری برادری ایک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کے پاس 99 دنبیاں ہیں۔ یعنی یہ ایک امیر آدمی ہے اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ اپنی ایک دنبی بھی اس کے حوالے کردوں۔ میں نے جب اسے اپنی دنبی دینے سے انکار کیا تو اس نے مجھ سے جھگڑا شروع کردیا۔ اور اب حال یہ ہے کہ یہ جھگڑے میں مجھ پر غالب آگیا ہے۔ یعنی یا تو اس نے اپنی امارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اتنے حمایتی پیدا کرلیے ہیں کہ وہ سب اس کی تائید کرتے ہیں اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زور بیان میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس نے دلائل کے زور سے مجھے خاموش کردیا ہے۔ اب ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ ہمارے درمیان بےلاگ فیصلہ فرمائیں۔
Top