Tafseer-e-Majidi - Saad : 23
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ
اِنَّ ھٰذَآ : بیشک یہ اَخِيْ ۣ : میرا بھائی لَهٗ : اس کے پاس تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ : ننانوے نَعْجَةً : دنبیاں وَّلِيَ : اور میرے پاس نَعْجَةٌ : دنبی وَّاحِدَةٌ ۣ : ایک فَقَالَ : پس اس نے کہا اَكْفِلْنِيْهَا : وہ میرے حوالے کردے وَعَزَّنِيْ : اور اس نے مجھے دبایا فِي الْخِطَابِ : گفتگو میں
یہ شخص میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، سو یہ کہتا ہے وہ بھی مجھ کو دے ڈال اور بات چیت میں مجھے دباتا ہے،23۔
23۔ (اور اپنے آگے میری بات نہیں چلنے دیتا) (آیت) ” اخی “۔ اخ سے لازمی طور پر بھائی ہی مراد نہیں ہوتا، دوست یا دینی بھائی بھی مراد ہوسکتا ہے۔ بالدین او بالصحبۃ (بیضاوی) والمراد اخوۃ الدین اواخوۃ الصداقۃ والالفۃ اواخوۃ الشرکۃ والخلطۃ (مدارک) (آیت) ” فاحکم ...... لاتشطط “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ فریق مقدمہ کے لیے جائز ہے کہ حاکم سے اس لہجہ میں خطاب کرے۔ یدل علی ان اللخصم ان یخاطب الحاکم بمثلہ (جصاص) (آیت) ” لہ ..... اکفلنیھا “۔ عہد داؤدی میں فلسطین میں بھیڑوں، دنبوں کی گلہ بانی کا عام رواج تھا۔
Top