Maarif-ul-Quran - Saad : 52
وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ
وَعِنْدَهُمْ : اور ان کے پاس قٰصِرٰتُ : نیچے رکھنے والیاں الطَّرْفِ : نگاہ اَتْرَابٌ : ہم عمر
اور ان کے پاس عورتیں ہیں نیچی نگاہ والیاں ایک عمر کی
وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ (اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم سن عورتیں ہوں گی) ان سے مراد جنت کی حوریں ہیں اور ”ہم سن“ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سب آپس میں ہم عمر ہوں گی اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ عمر میں مساوی ہوں گی۔ پہلی صورت میں ان کے ہم عمر ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں محبت، انس اور دوستی کا تعلق ہوگا سوکنوں کا سا، بغض اور نفرت نہیں ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز شوہروں کے لئے انتہائی راحت کا موجب ہے۔
زوجین کے درمیان عمر کے تناسب کی رعایت بہتر ہے
اور دوسری صورت میں جبکہ ”ہم عمر“ کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی، اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہم عمری کی وجہ سے طبیعتوں میں زیادہ مناسبت اور توافق ہوگا۔ اور ایک دوسرے کی راحت و دلچسپی کا خیال زیادہ رکھا جاسکے گا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زوجین کے درمیان عمر میں تناسب کی رعایت رکھنی چاہئے، کیونکہ اس سے باہمی انس پیدا ہوتا ہے۔ اور رشتہ نکاح زیادہ خوشگوار اور پائیدار ہوجاتا ہے۔
Top