Tafseer-e-Majidi - Saad : 52
وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ
وَعِنْدَهُمْ : اور ان کے پاس قٰصِرٰتُ : نیچے رکھنے والیاں الطَّرْفِ : نگاہ اَتْرَابٌ : ہم عمر
اور انکے پاس نیچی نگاہ والیاں ہم سنیں ہوں گی،51۔
51۔ یعنی حوریں، اور ہوسکتا ہے کہ اہل جنت کی بیویاں بھی مراد ہوں، غرض یہ کہ اہل جنت کیلئے مادی عیش و راحت کے بھی کل سامان موجود ہوں گے۔ اور اس پر عقل سلیم کو اعتراض کی ذرا بھی گنجائش نہیں۔ مادی لذتوں سے لطف اٹھانا بجائے خود ہرگز شریعت اور قانون فطرت کی نظر میں معیوب نہیں۔ مذموم تو ان کی صرف ناجائز صورتیں ہیں۔ (آیت) ’ فاکھۃ “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکا، کھانے پینے کی ہر لذیذ و مرغوب چیز مراد ہے۔ (آیت) ” قصرت الطرف “۔ یعنی بجز اپنے مردوں کے اور کسی پر نظر نہ ڈالنے والیاں، دنیا میں یہ وصف خاص طور پر محمود سمجھا جاتا ہے، اس لئے اس کا ذکر جنت کی نعمتوں کے سلسلہ میں بھی کردیا گیا۔ (آیت) ” اتراب “۔ محض ہم عمری یا سن وسال میں مطابقت مقصود نہیں۔ بلکہ شوق وپسند میں ہم آہنگی، عادات وجذبات میں یکسانی، غرض ہر ایسی باہمی مناسبت مراد ہے جو از دیاولطف وموانست کا باعث ہوسکے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ عین موقع ترغیب میں یہ ذکر اس کی دلیل ہے کہ مباح عورتوں کی جانب رغبت نہ حب الہی کے منافی ہے نہ کسی اور کمال کے، جیسا کہ صوفیہ ناقص یا بعض اہل باطل نے سمجھ رکھا ہے۔
Top