بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Maarif-ul-Quran - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار : (آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔ (ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے وہ احوال بیان فرمائے گئے جو گذشتہ سورت میں نہیں تھے سورت کے آخری حصے میں کفار کا یہ قول نقل کیا گیا تھا (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین “۔ کہ میں قرآن کی صفت (آیت ) ” ذی الذکر “۔ ارشاد فرما کر یہ ظاہر فرمادیا گیا کہ جس ذکر کی تم تمنا کرتے تھے اب وہی قرآن (آیت ) ” ذی الذکر “۔ نازل کردیا گیا لہذا اب تم کو چاہیے کہ حسب وعدہ ایمان لاؤ اور اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندے بن جاؤ۔ پھر مضمون سورت کا اختتام اس وعدۂ الہیہ پر ہوا (آیت ) ” ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین ..... الی ....... لھم الغالبون “۔ کو انبیاء (علیہم السلام) کی تائید ونصرت کا فیصلہ ہوچکا اور یہ کہ اللہ کا لشکر کافروں اور دشمنوں پر غالب آئے گا تو اس سورت کی ابتداء قرآن کریم کی عظمت وحقانیت کے بیان سے کی گئی اور اس پر ایمان نہ لانے والوں پر تنبیہ وتہدید فرمائی گئی ارشاد فرمایا۔ (آیت ) ” ص والقران ذی الذکر “۔ قسم ہے اس قرآن کی جو بڑی ہی عزت وشرف اور عبرت والا ہے جو دنیا وآخرت کی سعادت وہدایت کے جملہ علوم پر مشتمل ہے کہ اسکی صداقت وحقانیت عزت وشرف کا باعث ہے اور امم سابقہ کے احوال اور تاریخ حقائق عبرتونصیحت کا سامان ہیں۔ (ترجمہ) میں عزت وشرف کے ساتھ لفظ عبرت کا اضافہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لفظ ذکر وضع عربیہ کے لحاظ سے دو معنی پر دلالت کرتا ہے ایک عزت وشرف اور دوسرے عبرت ونصیحت اور یہاں دونوں معنی مراد ہیں۔ 12۔ (آیت ) ” ص والقران ذی الذکر “۔ میں واؤ قسمیہ ہے اور عربیت کی رو سے جملہ قسمیہ جواب قسم پر پورا ہوتا ہے تو یہاں جواب قسم محذوف ہے سورة یسین کی ابتداء ہی (آیت ) ” والقران الحکیم “۔ جملہ قسمیہ تھی مگر وہاں جواب قسم مذکور تھا یعنی (آیت ) ” انک لمن المرسلین “۔ بعض حضرات مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جواب قسم محذوف ہے اور آئندہ (آیت ) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر منھم “۔ اس کے مضمون پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ عذاب آخرت سے ڈرانے والے انکے سامنے آئے تو کفار مکہ غروروتکبر اور مخالفت وسرکشی پر کمر بستہ ہوگئے تو آنحضرت ﷺ کا عذاب آخرت سے ڈرانا تو فرض رسالت تھا مگر بجائے ایمان لانے کے کافروں نے غرور وتکبر اور مخالفت کا طریق اختیار کیا تو جواب قسم کا مضمون اس طرح مقدر مان لیا جائے۔ انہ لحق والایمان بہ ولمن جاء بہ لازم “۔ یعنی قسم ہے قرآن کی جو بڑی ہی عزت اور عبرت والا ہے بیشک یہ قرآن حق ہے اور اس پر اور قرآن لانے والے پر ایمان لانا لازم ہے لیکن افسوس کافر ایمان نہ لائے بلکہ تکبر اور مخالفت میں لگے رہے بعض مفسرین جواب قسم میں سورة یسین کی طرح ہی (آیت) ” انک لمن المرسلین “۔ کے مضمون کو جواب قسم قرار دیتے ہیں، یہ قرآن عالی مربت بیشک آپ ﷺ کی رسالت کی دلیل ہے اس میں تو کوئی خفایا شبہ نہیں کہ کافر اس وجہ سے آپ ﷺ پر ایمان لانے میں تردد کریں (آیت) ” بل الذین کفروا “۔ الخ، نہیں بلکہ کافر اپنے تکبر اور مخالفت میں ایمان لانے سے انحراف کررہے ہیں قتادہ ؓ نے تو اسی مضمون کو جواب قسم قرار دیا (تفسیر مظہری ص، 154 ج 8) زاد المسیر میں ابن الجوزی (رح) نے بھی اسی کو اختیار کیا بیضاوی (رح) کا قول ہے کہ جواب قسم، انہ لمعجزأو ات محمدا لصادق “۔ ہے یعنی قرآن معجز ہے یا یہ کہ محمد ﷺ سچے ہیں۔ لہذا کفار مکہ چاہئے کہ وہ قرآن پر بھی ایمان لائیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کو بھی مانیں الغرض ایسی عظمت وشرف والی کتاب پر ایمان نہ لانا یقیناً اس کتاب میں کسی ترددوشبہ کی بنا پر تو ممکن نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہ اپنے غرور ونخوت اور عداوت ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں اس عناد وسرکشی میں مبتلا ہونے والوں کو دھوکہ میں نہ رہنا چاہیے ہم تو ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت و شوکت میں ان سے بھی بڑھ کر تھے لیکن جب ان پر عذاب آیا تو چیخ اٹھے اور پکارنے لگے کہ کوئی انکی فریاد کو پہنچ جائے مگر وقت نہ رہا تھا ۔؂ 1۔ لفظ (آیت ) ” لات حین منصاص “۔ کا یہ ترجمہ ہے کہ لفظ لات دراصل نفی کیلئے وضع کردہ لفظ لاہی ہے جس پر تاکا اضافہ کرکے لات کی صورت میں استعمال کیا گیا جیسے لفظ ” رب “۔ اور، ثم “۔ تا کے اضافہ کے ساتھ استعمال کئے گئے ہیں، ” اخفش “۔ کا قول ہے لانفی جنس کا ہے اور خبر محذوف ہے اے لاحین مناص کائن لکم “۔ یعنی تمہارے واسطے خلاصی کا وقت نہیں ہونے والا ہے، سبببویہ، (رح) اور خلیل (رح) کی رائے یہ ہے کہ اس کے دو معمولوں یعنی اسم وخبر میں سے کوئی محذوف ہے مسند ابو داؤد، طیالسی کی روایت میں ہے کہ کسی نے عبداللہ بن عباس ؓ سے اس کا مطلب دریافت کیا تو فرمایا (آیت ) ” لیس بحین نزولا وفرارا “۔ یعنی نہیں ہے وقت اترنے اور بھاگنے کا ” مناص “ مصدر ہے جس کا مادہ نوص ہے اہل لغت کے نزدیک نوص تاخیر یعنی پیچھے ہٹنے کو اور بوص تقدم یعنی آگے بڑھنے کو کہتے ہیں۔ ) کہ بھاگ سکیں، اور بچ جائیں اور بجائے اسکے کہ ایمان لاتے اور کافروں نے اس بات پر تعجب کیا کہ آگیا انکے پاس ایک پیغمبر انہیں میں سے جو ان کو ڈرانے والا ہے حالانکہ اس بنا پر کہ وہ انہی کی قوم اور قبیلہ کا جانا پہچانا تھا مگر انہوں نے یہ کہا یہ تو یقیناً جادوگر بڑا ہی جھوٹا ہے نہ یہ وحی ہے اور نہ یہ اپنے اعلان میں سچا ہے بلکہ جو معجزات وخوارق ہیں وہ جادو ہے اور جو اعلان نبوت ہے وہ جھوٹ ہے کیا یہ شخص سچا ہوسکتا ہے جس نے بہت سے خداؤں کو ایک خدا بنا دنیا یہ تو بیشک بڑی ہی عجیب بات ہے کہ ایک خدا ساری کائنات کا کام چلائے اور جب آپ (علیہ السلام) نے لوگوں سے یہ کہا اگر تم پر کلمہ مان لو عرب وعجم تمہارے غلام ہوجائیں گے تو انکے سربرآوردہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے لوگو، یہاں سے چلو اور اپنے معبودوں پر مضبوطی سے جمے رہو بیشک یہ بات تو یقیناً ایسی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے کسی مقصد کا ارادہ کیا گیا ہے شاید اپنی غرض ومطلب برآری کیلئے تم سے یہ کہا جارہا ہے اور اس طرح اپنی سرداری کا ارادہ ہوگا ہم اس شخص کو اپنی غرض میں ہرگز کامیاب نہ ہونے دیں گے اس لئے یہاں سے اٹھ کھڑے ہو اور چلو اور اپنے معبودوں پر ہی جمے رہو ہم نے تو یہ بات (توحید کی) پہلے کسی ملت میں نہیں سنی نصاری بھی تین خداؤں کے قاتل ہیں مجوس وآتش پرست بھی، دو خدا یزدان، اور اہرمن کے قاتل ہیں اور خود ہمارے آباؤ اجداد قریش کے تمام قبیلے بھی بہت سے خداؤں کے قاتل تھے تو پھر اس مدعی نبوت نے کہا سے یہ بات نکالی کہ خدا ایک بس یہ (توحید کی بات) تو صرف اسی شخص کی اپنی طرف سے نئی ایجاد کردہ بات ہے جس کو اس نے اپنے دل سے گھڑلیا کفار مکہ کے اصل بنیادی شبھے تین تھے ایک توحید کے متعلق۔ دوسرا نبوت کے متعلق، اور تیسرا معاد یعنی قیامت کے متعلق تو ان آیات میں پہلے شبہ یعنی انکار توحید کا بیان ہے کہ منکرین نے اعلان توحید سن کر بڑی قوت کے ساتھ اس کا رد کیا اور شرک ہی پر جمے رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہے اور یہ کہ نبوت کا اعلان کرنے والے اس شخص کا اپنا کوئی مقصد ومطلب معلوم ہوتا ہے، اور بظاہر اس بہانہ سے اپنی سرداری قائم کرنا چاہتا ہے اور ہم ان کو اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہ ہونے دیں گے۔ بعض مفسرین نے (آیت) ” ان ھذا لشیء یراد “۔ کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ بیشک یہ وہ چیز ہے جس کا محمد ﷺ ارادہ ہی کرچکے ہیں کفار مکہ کے اس پچھلے شبہ کے ذکر کے بعد دوسرا شبہ انکار رسالت کے متعلق آئندہ آیات میں ذکر فرمایا جارہا ہے۔
Top