Maarif-ul-Quran - Saad : 34
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے
بیان حکمت تخلیق کائنات و اثبات حشر وذکر عظمت کتاب خداوندی : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” وما خلقنا السمآء والارض ........ الی ولیتذکر او لوا الالباب “۔ گذشتہ آیات کا مضمون حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خلافت کی ذمہ داریوں کے بیان اور اس میں اتباع نفس کے حائل ہونے اور اسکے انجام پر ختم ہوا تھا اس کے بعد اب ان آیات مبارکہ میں تخلیق کائنات کی حکمت بیان فرمائی جارہی ہے اور چونکہ حیات دنیوی آخرت کی تیاری کیلئے ہے تو اجمالا حشر کا اثبات بھی فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ قرآن کریم وہ کتاب مبارک ہے جسکی آیات میں تدبر اور ایمان وتقوی اور کفر ونافرمانی اور صلاح و فساد میں فرق واضح کرکے انسانوں کے دو گروہ متعین کرنا ہے ایک گروہ صالحین ومطیعین کا دوسرا مفسدین ومجرمین کا دھریہ اور نیچری قیامت کے منکر ہیں اور انکا یہ گمان ہے کہ دنیا ہمیشہ سے اسی طرح چلی آرہی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح چلتی رہے گی لوگ پیدا ہوتے رہیں گے اور مرتے رہیں گے اور یہ سلسلہ غیر متناہی طور پر جارہی رہے گا برہمن اور ہندو بھی قیامت کے قائل نہیں بلکہ وہ تناسخ کا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی انسان مرنیکے بعد کسی دوسرے جنم میں چلا جاتا ہے اور یہ دوسرا جنم گذشتہ جنم کی بھلائی اور برائی کے مطابق ہوتا ہی تو ان آیات میں ایسے مہمل عقائد کا بھی ابطال ورد فرمایا جارہا ہے اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ انکے درمیان ہے بیکار اور خالی از حکمت بلکہ ان میں بیشمار حکمتیں ہیں اور سب سے بڑی حکمت یہ کہ کائنات کی ہر موجودچیز خدا کی قدرت ووحدانیت پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ اس زندگی کے بعد آخرت کی زندگی برحق اور یقینی ہے اس کے واسطے انسان کو تیاری کرنے کی ضرورت ہے یہ تو خیال ہے کافروں کا کہ اس حیات کے بعد پھر کوئی حیات نہیں اور حشرونشر اور جزاوسزا نہیں ہے پس ہلاکت وتباہی ہے ان کافروں کے لئے جہنم کی آگ سے ظاہر ہے کہ ان کافروں نے آخرت اور عذاب آخرت کا انکار کرکے اپنے واسطے جہنم کی آگ اختیا کرلی ہے۔ آسمان و زمین اور ان کے درمیان جملہ موجودات حق تعالیٰ کی قدرت وخالقیت اور کمال حکمت کی واضح دلیل ہیں ان دلائل وحقائق کو نہ ماننے والے مجرم ونافرمان اور باغی ومفسد ہیں اور ان پر ایمان ویقین رکھنے والے مومنین ومتقین ہیں اور یقیناً ان دونوں گروہوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے یہ دونوں گروہ ہرگز ایک طرح کے نہیں ہوسکتے تو کیا ہم ان لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کے برابر کردیں گ ے جو کفر ونافرمانی کرکے دنیا میں فساد کرتے پھرتے ہیں یا بالفاظ دیگر یوں کہہ لو کہ کیا ہم پرہیزگاروں اور تقوی والوں کو بدکاروں اور فاجروں کے برابر کردیں گے نہیں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ جس حکمت کے باعث تخلیق کائنات کی گئی اس کے پیش نظر بھی ضروری ہے کہ ایمان و توحید کے ساتھ طاعت گزاروں کو نجات و انعامات کا مستحق قرار دیا جائے اور فساق وفجار اور کفر ونافرمانی کے ذریعے زمین میں فساد برپ اس کرنے والوں کو عذاب جہنم کا مستحق بنایا جائے یہی وہ قانون حکمت ہے جس کا ترجمان یہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو آپ کی طرف اتاری گئی بابرکت ہے اس غرض سے کہ لوگ اس کی آیت میں غور وفکر کریں اور اس حقیقت کو معلوم کرکے اور سمجھ کے اس سے اہل فہم نصیحت حاصل کریں کہ تخلیق کائنات کا یہی مقصد ہے اور حکمت خداوندی کا بھی یہی تقاضا ہے کہ عدل و انصاف قائم کرکے نیکوں کو نیکی کی جزاء اور بدکاروں کو بدکاری کی سزا دی جائے اس لئے ضروری ہوا ہے کوئی وقت حساب و کتاب اور جزاء وسزا کا رکھا جائے اور ظاہر ہے کہ یہ وقت صرف آخرت اور یوم قیامت ہی ہوسکتا ہے کیونکہ دنیا تو دارالعمل اور دار الامتحان ہے اور حقیقی جزاوسزا دوران عمل دارالعمل اور دارالامتحان میں قائم نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ پھر دنیا کی زندگی میں خیروشر کی آزمائش کا سلسلہ باقی نہ رہ سکے گا اس بنا پر مخبر صادق ﷺ کی خبر اور فرمان خداوندی پر ایمان لاتے ہوئے قیامت کا اقرار کرنا پڑے گا اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آسمان و زمین اور جملہ کائنات کی تخلیق عبث وبیکار اور خالی از حکمت نہیں اور ظاہر ہے کہ نیک وبد کے انجام کی یہ تفریق کتاب ہدایت ہی کے ذریعہ بتائی جاسکتی تھی اس لئے یہ کتاب مبارک حق تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی تاکہ اسکی بات میں تدبر اور غور وفکر سے اہل فہم عبرت ونصیحت حاصل کرلیں اور یقین کرلیں کہ مسئلہ مجازات اور معاد وآخرت عقل اور فطرت کے عین مطابق ہے حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد قرآن کریم میں فرماتے ہیں شاید (آیت) ” تدبر “۔ سے قوت علمیہ اور (آیت) ” تذکر “۔ سے قوت عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ان ہی قوتوں کی تکمیل اور اصلاح سے انسانی سعادت کی منزلیں طے ہوتی ہیں۔
Top