Tafseer-e-Saadi - Yaseen : 18
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
رسولوں نے جواب دیا کہ تمہاری نحوست تو خود تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو تم اس کو نحوست سمجھتے ہو نہیں) بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ خود حد سے بڑھنے والے لوگ ہو3
23 آدمی کی نحوست خود اس کے اپنے عمل و کردار میں : سو اسی حقیت کو آشکارا کرتے ہوئے ان رسولوں نے ان لوگوں کے الزام اور ان کی دھمکی کے جواب میں ان سے کہا کہ " تمہاری نحوست تو خود تمہارے ساتھ ہے "۔ یعنی وہ کفر و شرک، ضد وعناد اور ہٹ دھرمی، جس کو تم نے اپنے گلے لگا رکھا ہے۔ اور اسی کے باعث تم مبتلائے عذاب ہو رہے ہو جبکہ اصل عذاب تو آخرت کا عذاب ہے جو کہ بڑا ہی سخت ہے ۔ { وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کی نحوست اور بدبختی کا تعلق خود اس کے اپنے باطن اور اس کے عمل و کردار سے ہوتا ہے نہ کہ خارج سے۔ اس لیے ایسے ہر موقع پر اصل ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ انسان اپنے ایمان و عقیدہ اور اپنے باطن کی اصلاح پر توجہ دے اور اپنی غلط روش کو تبدیل کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ لیکن جن لوگوں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کی بنا پر ان کی مت مار دی جاتی ہے، انکو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ اور وہ اس کی بجائے اس کا الزام دوسروں پر رکھتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ وہ اسی بنا پر اہل حق کو مطعون کرتے ہیں اور اس طرح ایسے لوگ خسارہ در خسارہ میں مبتلا ہوتے اور ظلم بالائے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان رسولوں نے ان لوگوں کے الزام کے جواب میں فرمایا کہ " تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ ہے "۔ یعنی کفر و انکار اور تکذیبِ حق کی نحوست جس کو تم لوگوں نے خود گلے لگا رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top