Madarik-ut-Tanzil - Yaseen : 18
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
قَالُوْٓا : وہ کہنے لگے اِنَّا تَطَيَّرْنَا : ہم نے منحوس پایا بِكُمْ ۚ : تمہیں لَئِنْ : اگر لَّمْ تَنْتَهُوْا : تم باز نہ آئے لَنَرْجُمَنَّكُمْ : ضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں وَلَيَمَسَّنَّكُمْ : اور ضرور پہنچے گا تمہیں مِّنَّا : ہم سے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک دیکھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
جہال کا طرز عمل : 18: قَالُوْآ اِناَّ تَطَیَّرْنَا بِکُمْ (وہ لوگ کہنے لگے ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں) ہم تم سے بدشگونی لیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ان کے دین کو براخیال کیا اور ان کے نفوس اس سے نفرت کرنے لگے۔ جہلاء کی عادت ہی یہ ہے کہ ہر ایسی چیز کی تمنا کرتے ہیں۔ جس کی طرف جھکائو اختیار کرتے ہیں اور جس کو ان کے طبائع قبول کرتے ہیں۔ اور جس چیز سے نفرت ہو اس کو وہ منحوس قرار دیتے ہیں اور ناپسند کرتے ہیں۔ پھر اگر ان کو کوئی مصیبت یا نعمت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اس کی نحوست اور اس کی برکت سے حاصل ہوئی۔ ایک قول : یہ ہے ان سے بارش بند کردی گئی پس انہوں نے یہ کہا : لَپنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا (اگر تم اپنی بات سے بازنہ آئو گے) لَنَرْجُمَنَّکُمْ (ضرور ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے) ضرور ہم تمہیں قتل کردیں گے یا ضرور تمہیں یہاں سے ہانک دیں گے یا تمہیں گالی گلوچ کریں گے۔ ولَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ (تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی) ضرور تمہیں جلنے کا عذاب جھیلنا پڑے گا اور وہ سخت ترین عذاب ہے۔
Top