Ruh-ul-Quran - Yaseen : 18
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
قَالُوْٓا : وہ کہنے لگے اِنَّا تَطَيَّرْنَا : ہم نے منحوس پایا بِكُمْ ۚ : تمہیں لَئِنْ : اگر لَّمْ تَنْتَهُوْا : تم باز نہ آئے لَنَرْجُمَنَّكُمْ : ضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں وَلَيَمَسَّنَّكُمْ : اور ضرور پہنچے گا تمہیں مِّنَّا : ہم سے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
بستی والوں نے کہا ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے، اور تمہیں ہمارے ہاتھوں بڑی دردناک سزا پہنچے
قَالُوْٓا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ ج لَئِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّـکُمْ وَلَیَمَسَّنَّـکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (یٰسٓ: 18) (بستی والوں نے کہا : ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے، اور تمہیں ہمارے ہاتھوں بڑی دردناک سزا پہنچے گی۔ ) تَطَیَّرَکا مفہوم اور اس الزام کا سبب تَطَیَّرَاور اِطَّیَّرَ کا معنی ہوتا ہے فالِ بد لینا اور کسی کو منحوس سمجھنا۔ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کے کوئی نبی یا رسول تشریف لائے ہیں تو قوم نے حتی الامکان نبی کی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے انہیں ناکام کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔ اور جب دیکھا کہ ہماری مخالفت سے دعوت کا یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا تو پھر انھوں نے اذیت رسانی کے عمل کو تیز سے تیز تر کردیا۔ جب اس سے بھی بات بنتی نظر نہ آئی تو پھر اللہ تعالیٰ کے نبی کو قتل کرنے کے منصوبے باندھنے لگے۔ قوموں کا یہ ایک ایسا رویہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے ہر نبی کو سابقہ پیش آیا ہے۔ حق و باطل کی اس کشمکش میں پروردگار لوگوں کو مخالفت سے روکنے اور دین کی طرف مائل کرنے کے لیے بعض دفعہ مختلف آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہونے لگیں۔ اور انہیں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر ہم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو ہوسکتا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجائے۔ لیکن جب قوموں کی قسمت بگڑ جاتی ہے تو وہ بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ان آفات و مسائل کو آزمائش سمجھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی نحوست سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ آنے والے رسول چونکہ بتوں، دیویوں، دیوتائوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کی جانے والی مختلف قوتوں کی مذمت کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کی پوجا پاٹ سے روکتے ہیں اس لیے ہمارے وہ معبود اور دیوتا ان سے ناراض ہو کر ہمیں آفات میں مبتلا کررہے ہیں۔ تو اس لحاظ سے ہمارے معبودوں کی ناراضگی چونکہ ان کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے جب تک ہم انہیں ختم نہیں کریں گے یا یہاں سے نکلنے پر مجبور نہیں کردیں گے اس وقت تک ہم ان مسائل سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ چناچہ یہ ہے وہ سبب جس کی وجہ سے ان کی مخالفت کم ہونے کی بجائے اور تیز ہونے لگتی ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو دھمکیاں دینے لگتے ہیں کہ اگر تم لوگ اس بدعقیدگی کی اشاعت سے باز نہ آئے تو ہم اپنے دیوتائوں کی حرمت کی حفاظت کے لیے تم کو سنگسار کردیں گے۔ چناچہ قرآن کریم نے تمام معذب قوموں کی تاریخ کے حوالے سے ایک ایک قوم کا نام لے کر اس گمراہی کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ ہم صرف ایک حوالے پر اکتفا کررہے ہیں۔ سورة الاعراف میں اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے : وَلَقَدْ اَخَذْنَا اٰلَ فِرْعُوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ ۔ فَاِذَا جَآئَ تْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَاھٰذِہٖ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ۔ ” اور ہم نے قوم فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، تو جب ان کے حالات اچھے ہوتے کہتے کہ یہ تو، ، ہمارا حق ہی ہے اور اگر ان کو کوئی آفت پہنچتی تو اس کو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ “
Top