Urwatul-Wusqaa - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
اور ہمارے بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کیجئے جو بڑی قوت اور بصیرت والے لوگ تھے
ان سب کو اللہ تعالیٰ نے آخرت کی یاد کے لیے منتخب کیا تھا 46۔ اللہ تعالیٰ نے اس سب کو اپنی خصوصی نعمت کے ساتھ مخصوص کیا تھا یعنی ان سب کو آخرت کی یاد بخشی تھی اور وہ ہر وقت اور ہر آن اپنی آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں متفکر رہتے تھے اور ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہی تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا ان کی ساری فکر و سعی آخرت ہی کے لیے تھی وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی یاد دلاتے تھے یہی وجہ تھی کہ اللہ نے ان سب کی دنیا بھی سنوار دی اور آخرت بھی یقینا سنوار دی اور یہ وہ مرتبے ہیں جو دنیا کے طالبوں کو کبھی حاصل نہیں ہو سکتے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص آخرت کی فکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دنیا بھی اگر چاہے تو سنوار دیتا ہے اور آخرت بھی لیکن جو صرف دنیا کی طلب رکھتا ہے اس کی دنیا سنورے یا نہ سنورے لیکن آخرت میں اس کے حصہ میں کوئی چیز نہیں اس کی مزید وضاحت عروۃ الوثقی جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 200 میں دیکھ سکتے ہیں۔
Top