Urwatul-Wusqaa - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور وہ ہمارے ہاں منتخب اور پسندیدہ لوگوں میں سے تھا
اسماعیل ، الیسع اور ذو الکفل بھی پسندیدہ لوگوں میں سے تھے 48 ۔ اسماعیل (علیہ السلام) تو وہی ہیں جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادے اور اسحٰق (علیہ السلام) کے بھائی تھے جس طرح اسحٰق (علیہ السلام) بنو سارہ کہلائے اسماعیل (علیہ السلام) بنو حاجرہ کہلائے اور الیسع (علیہ السلام) کے نسب نامہ کو اس طرح بیان کیا گیا کہ الیسع بن عدی بن شوتم بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب بن اسٰحق بن ابراہیم اور یہ وہی ہیں جن کا نام تورات میں یسعیاہ کہا گیا ہے لیکن تورات میں ان کو عمومی کا بیٹا لکھا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیسع حضرت الیاس (علیہ السلام) کے نائب تھے اول عمر میں انہی کے ساتھ رہے اور الیاس (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے ان کو نبی منتخب کیا گیا۔ الیسع (علیہ السلام) کا تذکرہ کتب تاریخ و سیر میں بالکل مختصر تحریر ہوا ہے یہاں تک کہ ان کی عمر اور تبلیغ کے متعلق بھی کچھ وضاحت نہیں ہے سورة الانعام کی آیت 86 اور سورة ص کی زیر نظر آیت میں فقط ان کا نام آیا ہے جو انبیاء کی فہرست میں بیان ہوا ہے۔ ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر پیچھے سورة الانبیاء جلد ششم میں گزر چکا ہے اور ان کی مختصر سرگزشت بھی تحریر کی گئی ہے بہر حال ان سب کا شمار پیغمبروں اور نبیوں میں ہوتا ہے اور زیر نظر آیت میں بھی ان کا نام ہی مذکور ہے۔
Top