Tafseer-e-Majidi - Saad : 54
اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ
اِنَّ : بیشک ھٰذَا : یہ لَرِزْقُنَا : یقینا ہمارا رزق مَا لَهٗ : اس کے لیے ۔ اس کو نہیں مِنْ نَّفَادٍ : ختم ہونا
بیشک یہ ہماری عطا ہے، اس کا کہیں خاتمہ ہی نہیں،52۔
52۔ (آیت) ” لرزقنا “۔ میں رزق کی اضافت اپنی جانب کرنا اظہار تکریم و فضائل کیلئے ہے، یعنی یہ خاص ہمارا عطیہ ہوگا۔ جسے کسی طرح فنا وزوال نہیں۔ جتنا چاہوکھاؤ پیو۔ جس قدر چاہوصرف کرو، اڑاؤ، ان نعمتوں کے ذخیرے کم ہی نہ ہونے پائیں گے تو ان کین ختم ہونے کا ذکر ہی کیا، جنت کی نعمتیں جس طرح مقدار میں بےنہایت اور تعداد میں بیشمار وعدد ہوتی ہیں، اسی طرح ہر نعمت ابدی دائمی اور غیر منقطع بھی ہوگی۔
Top