Urwatul-Wusqaa - Saad : 54
اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ
اِنَّ : بیشک ھٰذَا : یہ لَرِزْقُنَا : یقینا ہمارا رزق مَا لَهٗ : اس کے لیے ۔ اس کو نہیں مِنْ نَّفَادٍ : ختم ہونا
بلاشبہ یہ ہمارا دیا ہوا رزق ہے جو (کبھی بھی) ختم ہونے والا نہیں
بلاشبہ یہ ہمارا دیا ہوا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے 54۔ (نفاد) کی اصل ند ہے جس کے معنی ختم ہونے کے لیں ۔ اہل جنت کو رزق دیئے جانے کا بیان ہے کہ اہل جنت کی اس وقت کی خواہش کے مطابق ہرچیز ان کو کثرت سے پہنچائی جائے گی اور جو ان کی خواہش ہوگی وہ پوری ہوگی کسی چیز کے وہاں ختم ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے نہ زندگی ختم ہوگی اور نہ ہی زندگی کی نعمتیں اور نہ ہی ان کو کمانے کے لیے کوئی محنت کرنا ہوگی گویا وہاں ” دب دب کے واہ تے رج رج کے کھا “ والا معاملہ نہیں ہوگا۔ اس میں یہ بھی بتا دیا کہ جو عمل انہوں نے اس دنیا میں کیے تھے ان کا صلہ کا وقت ہوگا اور صلہ حاصل کرنے کے لیے ان کو کوئی جدوجہد نہیں کرنا پڑے گی جیسے اس دنیا میں ریٹائر ہونے والوں کو کرنی پڑتی ہے اور پنشن حاصل کرنے کے لیے جو دھکے کھانے پڑتے ہیں یہ معاملہ وہاں بالکل نہیں ہوگا بلکہ ادھر خواہش نے جنم لیا ادھر چیز حاضر ہوگئی اس میں ہر حکومت کے لیے ایک تنبیہ موجود ہے بشرطیکہ تنبیہ حاصل کرنے کے لیے کوئی حکومت تیار بھی ہو۔ افسوس کہ یہاں ایک مشکل کو آسان کرنے کے لیے ایک نیا محکمہ کھولا جاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مشکل آۃ سان ہونے کے بجائے مزید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ حکومت جس چیز کا نام آسانی رکھتی ہے اس کو مزید مشکل بنا دیتی ہے کہ ان کے ارادہ میں اس کو آسان کرنا نہیں بلکہ مشکل کرنا ہوتا ہے بلاشبہ آپ گزشتہ حالات پر غور کر کے دیکھیں جب کسی حکومت نے مہنگائی ختم کرنا کا نام لیا تو مہنگائی مزید بڑھ گئی۔ وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ تیمیے اداروں میں چھٹیاں کم ہوں گی تو اسی سال دس چھٹیاں اور بڑھ گئیں ہمارے دیکھتے دیکھتے تین اعلان ہوئے اور اگر تیس نہیں تو بیس چھٹیاں بہر حال بڑھیں ہر معاملہ میں یہی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے شاید کوئی آنے والی حکومت مہنگائی برھانے کا اعلان کرے۔ چھٹیاں زیادہ کرنے کا آرڈرجاری کرے کیعن کہ اس ملک عزیز کی حکومت جو اعلان کرتی ہے اس کے برعکس رزلٹ نکلتا ہے ورنہ ہمارے ملک کے اس کالے قانون میں ابھی نہ معلوم کیا کچھ ہوگا۔ بہرحال یہ دنیا ایک ختم ہونے والی چیز ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو بھی یقینا ختم ہوتا ہے کیونکہ یہاں سب کچھ ختم ہونے ہی کے لیے ہے لیکن آخرت باقی رہنے والی چیز ہے لہذا جو کچھ آخرت میں کسی کو دیا جائے گا وہ ختم نہیں ہوگا خصوصا اہل جنت کے لیے کسی چیز کے ختم ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوگا بلاشبہ یہ اعلان الٰہی ہے اور اس اعلان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے۔
Top