Tafseer-e-Mazhari - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور اسمٰعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو۔ وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے
واذکر اسمعیل والیسع و ذا الکفل وکل من الاخیار اور ذکر کرو اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کا ‘ سب سے اچھے لوگوں میں سے تھے۔ الیسع ‘ اخطوب کے بیٹے تھے ‘ بنی اسرائیل نے ان کو اپنا سردر بنا لیا تھا (سب پر حکومت کرتے تھے) پھر اللہ نے نبی بھی بنا دیا۔ ذوالکفل حضرت الیسع کے چچا زاد بھائی تھے ‘ یا بشر بن ایوب کے بیٹے تھے ‘ آپ کی نبوت کے متعلق اختلاف ہے (کوئی آپ کو نبی کہتا ہے ‘ کوئی صرف مرد صالح اور اللہ کا ولی۔ مترجم) ذوالکفل لقب ہوجانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے سو آدمی ان کے پاس آگئے ‘ آپ نے ان کو پناہ دی اور ان کی ذمہ داری لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک نیک آدمی تھا ‘ روزانہ سو بار نماز پڑھتا تھا (کمائی کیلئے وقت نہیں بچتا تھا) آپ نے اس کے کام کا ذمہ لے لیا تھا (اور معاش کی کفالت کرلی تھی) ۔
Top