Urwatul-Wusqaa - Saad : 16
وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا رَبَّنَا : اے ہمارے رب عَجِّلْ : جلدی دے لَّنَا : ہمیں قِطَّنَا : ہمارا حصہ قَبْلَ : پہلے يَوْمِ الْحِسَابِ : روز حساب
اور ان لوگوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ یوم حساب سے قبل ہم کو یہیں دے دے
وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمارا عذاب کا حصہ ہم کو یوم حساب سے پہلے ہی دے دے 16۔ جب پیغمبر اسلام نے ان لوگوں کو حساب کے دن یعنی قیامت کے عذاب سے ڈرایا کہ ضد سے تمہارا نقصان ہوگا اور تم قیامت کے روز عذاب کی لپیٹ میں آ جائو گے تو وہ مخالفت کے باعث اکڑ کر اور اترا کر کہنے لگے قیامت تو کب آئے گی اور کب نہیں آئے گی اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ عذاب ہم کو جلد از جلد اسی جگہ دے دیا جائے اور یہ بات انہوں نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے کہی آپ کو سنا کر کہی گویا مذاق ہی مذاق کے انداز میں وہ حد سے متجاوز ہو کر اپنی بےعقلی اور کوتاہ اندیشی کا ثبوت اس طرح پیش کرنے لگے کہ کھلے بندوں عذاب مانگنے لگ گئے کہ ہمارے حصہ کا عذاب ہم کو اس دنیا ہی کی زندگی میں دے دے یا یہ کہ ہمارے حساب کتاب میں جو ہمارے اعمال لکھے جا چکے ہیں جلد ہمارے سامنے پیش کر دے اور اس طرح جو کچھ انہوں نے کہا یعنی جو بھی ان کی مراد تھی وہ بہر حال مذاق اور استہزاء تھی نہ کہ خوف اور ڈر کی وجہ سے اور آنے والی آیت نے اس کی خود وضاحت کردی ہے۔
Top