Mazhar-ul-Quran - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اورف 1، بیشک ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ہم نے اس کے تخت پر ایک بےجان بدن ڈال دیا تو وہ (خدا کی طرف) رجوع ہوا
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنابھول گئے تو اللہ نے گرفت کے طور پر انکی آزمائش کی وہ آزمائش یہ تھی کہ بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان نے فرمایا تگھا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والاسوار پیدا ہوگا، مگر یہ فرماتے وقت زبان سے انشاء اللہ نہ فرمایا، غالبا یاد نہ رہا، تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ادھورابچہ پیدا ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں کے لڑکے ہی پیدا ہوتے اور راہ خدا میں جہاد کرتے، ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دایہ نے وہ ہی ادھورابچہ ان کے تخت پر لاکرڈالا کہ لویہ تمہاری قسم کا نتیجہ ہیی یہ دیکھ کر حضرت سلیمان ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوئے اور ان شاء اللہ نہ کہنے پر استغفار کیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت۔ پھر جب اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی بادشاہت کے عطا ہونے کی دعا کی اے میرے پروردگار تو ایسی عظیم الشان سلطنت عنایت فرماجو میرے سوا کسی کو نہ ملے، کہ جس کی مثال دنیا میں نہ پائی جائے تو اللہ تعالیٰ نے ہو اور جنات کو ان کا فرمانبردار کردیا اور وہ ہوا ظاہر میں تو نرم تھی آندھی نہ تھی لیکن تاثیر میں ایسی تیز تھی کہ رات دن میں دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا آگے فرمایا کہ جنات جو تعلیمات تھے وہ کچھ عمارتوں کے بنانے کے کام کرتے تھے اور کچھ غوطے لگاکر سمندر میں سے موتی نکالتے تھے اور کچھ اور کام کرتے تھے جن کاموں کا ذکر سورة سبا وغیرہ میں تفصیل سے گزرچکا ہے جو جنات سرکشی کرتے تھے ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید کردیاجاتا تھا آخر کو فرمایا سلیمان (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں صاحب مرتبہ تھے۔ اس لیے اتنی بڑی بادشاہت عطا کرکے یہ حکم دیدیا گیا تھا کہ اس بادشاہت کے کاموں میں وہ جس طرح چاہیں تصرف کریں گے کسی بات میں ان سے کسی طرح کی پرسش نہ ہوگی۔
Top