Ruh-ul-Quran - Saad : 64
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ایک ڈرانے والا خود ان ہی میں سے آگیا، اور کافروں نے کہا، یہ ساحر ہے، سخت جھوٹا ہے
وَعَجِبُوْا اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْھُمْ ز وَقَالَ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ (صٓ: 4) (اور ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ایک ڈرانے والا خود ان ہی میں سے آگیا، اور کافروں نے کہا، یہ ساحر ہے، سخت جھوٹا ہے۔ ) مخالفین کے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اعتراضات قریش اور دیگر مخالفین آنحضرت ﷺ کے دعویٰ نبوت کا انکار کرتے ہوئے مختلف طریقے اختیار کرتے تھے تاکہ حتی الامکان لوگوں کو آپ کی شخصیت سے متاثر ہونے کا موقع نہ دیں اور آپ کی بات کو زیادہ سے زیادہ غیرمعتبر ٹھہرائیں۔ کبھی تو وہ آپ کی نبوت کا صاف صاف انکار کرتے۔ اور قرآن کریم نے متعدد مواقع پر اس کا بھی ذکر کیا ہے۔ اور کبھی آپ کے دعویٰ نبوت پر تعجب کا اظہار کرتے اور لوگوں کے قریب ہو کر ان کو اعتماد میں لیتے ہوئے یہ کہتے کہ یارو ! باقی باتیں تو چھوڑو، ہمیں تو اس بات پر تعجب ہورہا ہے کہ آخر ہم انسانوں میں سے ایک انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے منذر بن کر کیسے آگیا۔ اللہ تعالیٰ کا منذر ہونا اس کا وائسرائے ہونے کے مترادف ہے۔ تو کیا اتنا بڑا منصب انسانوں میں سے ایک انسان کو دے دیا جائے گا۔ کہاں اللہ تعالیٰ کی ذات اور کہاں انسان ذرہ ناچیز۔ وہ اس کی پیغام بری کا حق کیسے ادا کرسکتا ہے۔ بشر ایک حقیر مخلوق کا نام ہے اور نبوت اللہ تعالیٰ کی نمائندگی ہے۔ اس لیے اس سے بڑھ کر تعجب کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ زمین پر رینگنے والے ایک انسان کو کائنات اور عرش و کرسی کے مالک کا نمائندہ سمجھ لیا جائے۔ چلیے اگر اس بات کو بھی گوارا کرلیا جائے تو اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے ایک عام آدمی جو اپنی کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اس کا کوئی خاص حوالہ نہیں۔ وہ یتیم پیدا ہوا، بچپن میں بکریاں چراتا رہا اور مالی لحاظ سے ابھی سنبھلنے نہ پایا تھا کہ اس کے سر پر نبوت کا تاج رکھ دیا گیا۔ کیا نبوت کوئی ایسا گیا گزرا منصب ہے کہ وہ ایک نہایت نادار اور بےحیثیت آدمی کے سر پر سجا دیا جائے۔ اگر یہ منصب دینا ہی تھا تو کیا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا تھا۔ قریش کا اظہارِ تعجب اپنی جگہ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے کہ جن باتوں کی وجہ سے ان کو تعجب پیدا ہوا ہے وہ باتیں تو حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسانوں کی اصلاح کے لیے کسی آسمانی مخلوق کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو وہ انسانوں کی اصلاح کیسے کرسکتی۔ کیونکہ ہر جنس اپنی ہم جنس کی ضروریات کو سمجھتی ہے۔ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اگر انسان کے علاوہ کوئی اور مخلوق بھیجی جاتی وہ یقینا انسانی حالات، جذبات اور ضروریات سے بیخبر ہوتی تو انسان کی رہنمائی کیسے کرتی۔ اور اگر انسانوں میں سے کسی اجنبی آدمی کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو اہل مکہ اس کی صداقت کو کیسے جانتے، انھیں کیسے خبر ہوتی کہ یہ شخص بھروسے کا آدمی ہے یا نہیں، انھیں اس کی سیرت و کردار کے بارے میں کیسے اطمینان ہوتا۔ آنحضرت ﷺ کو ساحر قرار دینے کی وجہ دوسری بات اس آیت میں یہ کہی گئی ہے کہ یہ شخص پیغمبر نہیں بلکہ ساحر ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخالفین کا ساحر قرار دینا درحقیقت اس وجہ سے تھا کہ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ جو شخص اس پیغمبر پر ایمان لے آتا ہے ہزار کوشش اور اذیت کے باوجود وہ ایمان سے منہ نہیں پھیرتا۔ اسے کسی تعلق کے کٹ جانے اور کسی نقصان پہنچنے کی پرواہ نہیں ہوتی۔ باپ کو بیٹا اور بیٹے کو باپ چھوڑ دیتا ہے، بیوی شوہر سے الگ ہوجاتی ہے اور شوہر بیوی سے جدا ہوجاتا ہے۔ ہجرت کی نوبت آئے تو دامن جھاڑ کر وطن سے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ کوئی بھی قیامت گزر جائے وہ شخص اپنے ایمان سے کبھی منحرف نہیں ہوتا، یہ جادو نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے کسی کے سامنے کبھی زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا۔ لیکن وہ جس کلام کو کلام خداوندی کہہ کر پیش کرتا ہے اس کی معجزانہ فصاحت و بلاغت انسان کو مسحور کرکے رکھ دیتی ہے۔ قرآن کریم کا پیش کردہ نظام زندگی ہر طرح کے اختلاف سے پاک ہے۔ اس کی پیشگوئیاں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی صداقت منوا چکی ہیں۔ وہ ان تمام باتوں کے جواب میں صرف ایک ہی بات کہتے تھے کہ یہ شخص بہت بڑا جادوگر ہے۔ اس شخص کے کلام میں جو تأثیر و تذکیر ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس پر آسمان سے وحی اترتی ہے بلکہ یہ کلام کا جادوگر ہے۔ اس وجہ سے اس کی باتیں دلوں پر اثر کرتی ہیں۔ اور تیسری بات اس آیت میں یہ کہی گئی ہے کہ یہ شخص پیغمبر نہیں بلکہ کذاب ہے جس کا معنی ہے جھوٹا، لپاٹیا اور لاف زن۔ یعنی یہ شخص کلام کا جادوگر ہی نہیں بلکہ عوام پر اپنی دھونس جمانے کے لیے نبوت کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر نازل ہوتا ہے۔ وہ اس کی طرف سے منذر ہو کر آیا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں جھوٹی ہیں، یہ اپنے ہر دعوے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے ایک رسول بھیجا، ان کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ایک منذر کو مبعوث کیا، ان کے لیے ایک یاددہانی کرنے والی کتاب نازل فرمائی، لیکن وہ غرور اور تکبر کے مارے ہوئے لوگ اس بات پر تعجب کررہے ہیں کہ ان ہی جیسا ایک بشر ان کے پاس انذار کے لیے کیسے آگیا۔ اور وہ اپنی رعونت اور تکبر میں نہ جانے اللہ تعالیٰ کے رسول کو کیا کیا کہہ رہے ہیں۔
Top