Urwatul-Wusqaa - Saad : 11
جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ
جُنْدٌ : ایک لشکر مَّا : جو هُنَالِكَ : یہاں مَهْزُوْمٌ : شکست خوردہ مِّنَ الْاَحْزَابِ : گروہوں میں سے
(دوسری) جماعتوں میں سے یہ بھی (کفار مکہ کا) ایک ہزیمت خوردہ لشکر ہے
دوسری جماعتوں میں سے یہ بھی ایک ہزیمت خوردہ لشکر ہے 11۔ یہ ایک پیش گوئی ہے جو تقریبا سات آٹھ سال پہلے بیان کردی گئی اور جب یہ بیان کی گئی اس وقت مسلمانوں کی ایک مختصر سی جماعت مکہ کے اندر ہی پٹ رہی تھی اور ابھی تک اس کے جسم میں جان بھی نہیں ڈالی گئی تھی۔ قرآن کریم میں اس طرح کی بیسیوں سے بھی متجاوز آیات بینات بیان کی گئی ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے مفسرین نے ان آیتوں کی طرف مطلق التفات نہ کیا اور بالکل خاموشی کے ساتھ گزر گئے اور آیات بینات کا اطلاق قرآن کریم کے ان استعارات و اشارات پر کردیا جن کے اندر مضمون نہایت کثرت سے بھر دیا گیا تھا اور اپنی طرف سے ان کا نام معجزات رکھا اس بات کو اس قدر پھیلایا اور اصل معجزات کو اس طرح دبا دیا گیا کہ ان کو معجزات کہنا بھی آج آسان نہ رہا کیونکہ جب اس کو معجزہ قرار دیا جائے گا تو لوگوں کی نظر تفاسیر کی کتب اور ان مذہبی ٹھیکہ داروں کی طرف اٹھے گی اور یہ سب اس معاملہ میں خاموشی دکھائی دیں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ سننے والا بوکھلا کر رہ جائے گا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ایک بات کا ایسے وقت میں اعلان کرنا جب کہ اس بات کے پورا ہونے کی بظاہر کوئی شکل نظر نہ آتی ہو لیکن وہ اپنے وقت پر حرف بہ حرف پوری ہوجائے تو کیا اس سے بڑا کوئی اور معجزہ بھی ہوگا ؟ حالانکہ معجزہ کی تعریف میں سر فہرست یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ وہ نبی و رسول کی طرف سے ہو اور تحدی یعنی چیلنج کے بعد ہو۔ اب غور کیجیے کہ اس سے بڑھ کر کیا تحدی ہوگی کہ جب مسلمان معدودے چند آدمی ہیں اور پورے علاقہ کے اندر وہ پٹ رہے ہیں ، لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان کے قائد کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ ” جماعتوں میں سے یہ بھی (کفارِ مکہ) ایک ہزیمت خوردہ لشکر ثابت ہوگا۔ “ اس کا جواب ان کو بدر کے میدان میں دیا گیا اور فتح مکہ میں اس جماعت کا بالکل خاتمہ کردیا گیا لیکن افسوس کی بات بات پر معجزہ کی رٹ لگانے والے یہ جانتے ہی نہیں کہ معجزہ کہتے کسے ہیں ؟ آگے آنے والی آیات کریمات پر مزید غور کرو تو بات انشاء اللہ سمجھ میں آجائے گی اور تحدی کے بعد نتیجہ کیا رہا ہے۔
Top