Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 9. At-Tawba · Ayah 12

  1. وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ﴿12﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. نَّكَثُوْٓاوہ توڑ دیں
    3. اَيْمَانَهُمْاپنی قسمیں
    4. مِّنْۢ بَعْدِکے بعد سے
    5. عَهْدِهِمْاپنا عہد
    6. وَطَعَنُوْااور عیب نکالیں
    7. فِيْمیں
    8. دِيْنِكُمْتمہارا دین
    9. فَقَاتِلُوْٓاتو جنگ کرو
    10. اَئِمَّةَ الْكُفْرِکفر کے سردار
    11. اِنَّهُمْبیشک وہ
    12. لَآنہیں
    13. اَيْمَانَقسم
    14. لَهُمْان کی
    15. لَعَلَّهُمْشاید وہ
    16. يَنْتَهُوْنَباز آجائیں
Translation · Aasan Quran
اور اگر ان لوگوں نے اپنا عہد دے دینے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالی ہوں اور تمہارے دین کو طعنے دئیے ہوں، تو ایسے کفر کے سربراہوں سے اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں۔ (11) کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حقیقت نہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
11۔ پچھلی آیت کی روشنی میں قسمیں توڑنے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد بعض قبائل مرتد ہوئے، اور حضرت صدیق اکبر ؓ نے ان سے جہاد کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ پہلے ہی عہد توڑ چکے یا جن سے معاہدہ نو مہینے تک باقی ہے وہ اس دوران معاہدہ توڑیں، ان سے جہاد کرو اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری طرف سے جنگ کا مقصد ملک گیری کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ تمہارا دشمن اپنے کفر اور ظلم سے باز آجائے۔