Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
تو کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟ اور اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا تو ان کے درمیان (عملی) فیصلہ اب تک ہوچکا ہوتا اور کافروں کو ضرور عذاب دردناک ہوگا،26۔
26۔ (آخرت میں) (آیت) ” شرعوا ...... اللہ “۔ شرک کے ساتھ ساتھ آیت کے اس جزء میں بدعت یعنی دین میں اپنی طرف سے بات نکالنے کا بھی استیصال ہے۔ (آیت) ” ان الظلمین “۔ ظالمین۔ یہاں بھی قرآن مجید کے اکثر مقامات کی طرح کافروں کے معنی میں ہیں۔ اے المشرکین (معالم)
Top