Dure-Mansoor - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان کے لئے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کیلئے دنیا میں وہ چیزیں مشروع کردی ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی اگر فیصلہ کی بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور بلاشبہ ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا کلمۃ الفضل “ (اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا) یعنی قیامت کا دن کہ اس وقت تک ان کو مہلت دی گئی (تو دنیا میں ان کا فیصلہ ہوجاتا ہے) اور (آیت ) ” فی روضت الجنت “ سے مراد ایسا مکان ہے جو ان کی شان کے مطابق ہوگا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابو ظبیہ (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت کی ایک جماعت کو بادل سایہ کرلے گا تو کہے گا میں تم پر بارش نہ کروں تو اس قوم میں سے کوئی بھی آدمی کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا مگر وہ اس پر بارش برسائے گا یہاں تک کہ ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ ہم پر اٹھے ہوئے پستانوں اور ہم عمر عورتوں جیسا بادل برسا۔ 3:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) و بخاری ومسلم و ترمذی وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھا گیا تو سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا اس سے مراد آل محمد کے قریبی رشتہ دار ہیں ابن عباس ؓ نے فرمایا جلدی کی کہ قریش میں سے کوئی خاندان ایسا نہیں تھا جس کو نبی کریم ﷺ سے رشتہ داری نہ ہو پھر فرمایا مگر تم میرے اور اپنے درمیان رشتہ داری کو ملائے رکھو۔ رشتہ داری کو واسطہ بنا کر دعوت ایمان : 4:۔ ابن ابی حاتم و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے (سعید بن جبیر کے طریق سے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر مجھے جو تم سے رشتہ داری کا تعلق ہے اس وجہ سے تم مجھ سے محبت کرو، اور اس رشتہ داری کی تم حفاظت کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔
Top