Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان کے لئے اور شریک ہیں کہ راہ ڈالی ہے انہوں نے ان کے واسطے دین کی کہ جس کا حکم نہیں دیا اللہ نے اور اگر نہ مقرر ہوچکی ہوتی ایک بات فیصلہ کی تو فیصلہ ہوجاتا ان میں اور بیشک جو گنہگار ہیں ان کو عذاب ہے درد ناک
خلاصہ تفسیر
دین حق کو تو خدا نے مشروع و مقرر فرمایا ہے، مگر یہ لوگ جو اس کو نہیں مانتے تو) کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک (خدائی ہیں) جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (مطلب یہ ہے کہ کوئی ذات اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہو سکے) اور اگر (خدا کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھہرا ہوا) نہ ہوتا (یعنی یہ کہ ان پر اصل عذاب موت کے بعد ہوگا) تو (دنیا ہی میں) ان کا (عملی) فیصلہ ہوچکا ہوتا اور (آخرت میں) ان ظالموں کو ضرور دردناک عذاب ہوگا (اس روز) آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وبال) ان پر (ضرور) پڑ کر رہے گا (یہ تو منکرین کا حال ہوگا) اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (ہوں گے) وہ بہشتوں کے باغوں میں (داخل) ہوں گے (بہشت کو جمع اس لئے لائے کہ بہشت کے مختلف طبقات اور درجات ہیں، ہر طبقہ ایک بہشت ہے اور ہر طبقہ میں متعدد باغات ہیں، اپنے اپنے رتبہ کے مطابق کوئی کہیں ہوگا، کوئی کہیں ہوگا) وہ جس چیز کو چاہیں ان کے رب کے پاس ان کو ملے گی، یہی بڑا انعام ہے (نہ وہ فانی عیش و عشرت جو دنیا میں موجود ہے) یہی ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے (اور چونکہ کفار پورا مضمون سننے سے پہلے ہی تکذیب کرنے کے خوگر تھے، اس لئے اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ہی ایک جملہ معترضہ میں کفار کو ایک دلگداز مضمون سنانے کا حکم فرماتے ہیں یعنی) آپ (ان سے) یوں کہئے کہ میں تم سے اور کچھ مطلب نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کی محبت کے (یعنی اتنا چاہتا ہوں کہ تمہارے رشتہ داری کے جو تعلقات ہیں، ان کے حقوق کا تو خیال رکھو، کیا رشتہ داری کا یہ حق نہیں کہ مجھ سے عداوت میں جلدی نہ کرو بلکہ (اطمینان کے ساتھ میری پوری بات سن لو اور اس کو عقل اور دلیل صحیح کی میزان سے جانچو، اگر معقول ہو تو قبول کرلو، اور اگر کچھ شبہ ہو تو صاف کرلو، اور بفرض محال غلط ہو تو مجھ کو سمجھا دو ، غرض جو بات ہو خیر خواہی سے ہو، یہ نہیں کہ فوراً ہی بھڑک اٹھو) اور (آگے مومنین کے لئے بشارت کا تتمہ ہے یعنی) جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس (نیکی) میں اور خوبی زیادہ کردیں گے (یعنی اس خوبی کا مقتضا فی نفسہ جس قدر ثواب ہے ہم اس سے زیادہ ثواب دیں گے) بیشک اللہ (اطاعت گزار بندوں کے گناہوں کا) بڑا بخشنے والا (اور ان کی نیکیوں کا) بڑا قدر دان (اور ثواب عطا کرنے والا) ہے۔
Top