Anwar-ul-Bayan - Al-Qasas : 60
وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠   ۧ
وَمَآ اُوْتِيْتُمْ : اور جو دی گئی تمہیں مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : سو سامان الْحَيٰوةِ : زندگی الدُّنْيَا : دنیا وَزِيْنَتُهَا : اور اس کی زینت وَمَا : اور جو عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس خَيْرٌ : بہتر وَّاَبْقٰى : اور باقی رہنے والا۔ تادیر اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : سو کیا تم سمجھتے نہیں
اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟
(28:60) اوتیتم ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم کو دیا گیا۔ تم کو ملا۔ ایتاء افعال مصدر۔ ابقی۔ افعل التفصیل کا صیغہ۔ زیادہ دیر تک رہنے والا۔ سدا رہنے والا۔ بقاء مصدر جس کے معنی باقی رہنے کے ہیں۔ یہ لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوگا تو اس کے معنی سدا باقی رہنے والے کے ہوں گے ورنہ دیر تک رہنے ووالے کے۔ افلا تعقلون۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہےعاطفہ ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے یا عقل سے کام نہیں لیتے۔کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ای الا تفکرون، فلا تعقلون۔ افمن کیا بھلا وہ شخص۔
Top