Dure-Mansoor - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اس میں سے اسے دے دیں گے اور آخرت میں اس کے لئے کوئی بھی حصہ نہیں
1:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ “ (جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے) یعنی آخرت کی زندگی کا (آیت ) ” نزدلہ فی حرثہ “ (تو ہم اس میں سے دے دیتے ہیں فرمایا کہ جس نے ترجیح دی اپنی دنیا کو اپنی آخرت پر تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا سوائے آگ کے اور دنیا میں سے بھی کسی چیز کا اضافہ نہیں فرمائے گا سوائے اس رزق کے جس کا وہ فیصلہ کرچکے ہیں اور اس کو تقسیم کردیا گیا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ من کان یرید حرث الاخرۃ “ یعنی جس شخص نے آخرت کی زندگی کا ارادہ کیا تو ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔ (آیت) ” ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب “۔ یعنی جس شخص نے اپنی دنیا کو اپنی آخرت پر ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں فرماتے سوائے آگ کے اور دنیا میں سے بھی کوئی چیز کا اضافہ نہیں فرماتے مگر وہ رزق جس کا فیصلہ ہوچکا اور اس کے لئے تقسیم کردیا گیا۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے قتادہ ؓ کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) (آیت ) ” ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب “۔ یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4:۔ احمد وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) وابن جبان (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت کو خوشخبری دی گئی بلندی اور زمین میں حکومت کی اس وقت تک جب تک وہ طلب نہ کریں دنیا کو آخرت کے عمل کے ساتھ جو شخص ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ؛ 5:۔ الحاکم و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت ) ’ من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ “ تلاوت فرمائی پھر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے آدم کے بیٹے ! تو میری عبادت کے فارغ ہوجا میں تیرے سینے کو غنا سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو روک دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے سینے کو (دنیاوی) مصروفیات سے بھردوں گا اور تیرے فقر کو بند نہیں کروں گا۔ 6:۔ حاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے تمام غموں کو ایک غم بنادیا تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیا کے غموں کے لئے کافی ہوجائے گا اور جس شخص کے غم بہت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ دنیا کی جس وادی میں ہلاک ہوجائیں۔ 7:۔ ابن ابی الدنیا وابن عساکر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ کھیتیاں دو ہیں دنیا کی کھیتی مال اور بیٹے ہیں اور آخرت کی کھیتی باقی رہنے والی نیکیاں (یعنی نیک اعمال ہیں) اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے لڑنے والے شہید ہیں : 8:۔ ابن المبارک نے مرۃ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک قوم اللہ کے راستے میں قتل، کی گئی تو انہوں نے فرمایا کی جس طرف تم جاتے ہو اور جو رائے راکھتے ہو ایسا نہیں ہے۔ جب دو لشکر آپس میں لڑتے ہیں تو فرشتے نازل ہوتے ہیں تو ہو لیتے ہیں جبکہ اپنی اپنی جگہ پر ہوتے ہیں کہ فلاں دنیا کے لئے لڑرہا ہے اور فلاں بادشاہ کیلئے لڑتا ہے اور فلاں شہرت کے لئے لڑرہا ہے اور اس طرح فلاں فلاں لڑرہا ہے اور فلاں اللہ کی رضا مندی کے لئے لڑرہا ہے پس جو شخص اللہ کی رضا کیلئے شہید ہو اوہ جنت میں ہے۔ 9:۔ ابن نجار نے اپنی تاریخ میں رزین بن حصین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے علی بن ابی طالب ؓ کو اول سے آخر تک سارا قرآن سنایا جب میں حوامیم سورتوں پر پہنچا تو مجھ سے فرمایا تو قرآن کی دلہنوں تک پہنچ گیا اور جب میں (آیت ) ’ ’ حم ٓ (1) عسق “ کی بائیسویں آیت پر پہنچا تو رونے لگے اور فرمایا اللہ تعالیٰ میں آپ سے عاجرزی کرنے والوں کی عاجزی اور یقین کرنے والوں کے اخلاص اور نیک لوگوں کی اقامت اور ایمان کی حقیقتوں کے استحقاق اور ہر نیکی میں سے مالا مال ہونے اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری رحمت اور جنت کو پانے اور آگ سے نجات کی امید رکھتا ہوں پھر فرمایا اے رزین جب تو (قرآن کو) ختم کرلے تو یہ دعا کیا کر کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ختم قرآن کے وقت یہ دعا بھی کروں۔
Top