بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Dure-Mansoor - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ بڑی عالی ذات جس کے قبضے میں ملک ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
1۔ احمد بن ابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن الضریس والحاکم وصححہ وابن مردویہ و بیہقی فی شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں تیس آیتوں والی ایک سورة ہے۔ وہ آدمی کے لیے سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کو بخش دیا جائے گا۔ سورة ملک تلاوت کرنے والے کو جنت میں داخل کے گی۔ 2۔ الطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک سورة قرآن میں ایسی ہے جو اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑا کرے گی۔ یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کرادے گی اور وہی سورت ہے تبرک الذی بیدہ الملک۔ 3۔ الترمذی والحاکم وابن مردویہ وابن نصر و بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کسی نے ایک قبر پر خیمہ لگایا وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ قبر ہے۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ سورة تبارک الذی قبر کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ سورۃ ملک کی فضیلت 5۔ ابن مردویہ نے رافع بن خدیج اور ابوہریرہ ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ پر سورة تبارک الذی اتاری گئی۔ ایک ہی مرتبہ اور اس کی تیس آیتیں ہیں۔ اور فرمایا کہ یہ عذاب کو روکنے والی ہے قبروں میں آیت قل ہوا اللہ احد کا نماز میں پڑھنا ایک تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔ آیت قل یا ایہا الکفرون نماز میں پڑھنا چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ آیت اذا زلزلت نماز میں پڑھنا آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 6۔ عبد بن حمید فی مسندہ واللفظ لہ والطبرانی والحاکم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی سے فرمایا کیا میں تجھ کو ایک حدیث تحفے کے طور پر نہ دوں کہ جس سے تو خوش ہوجائے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا سورة تبرک الذی بیدہ الملک پڑھ اور اپنے گھروالوں کو بھی سکھاؤ اور اپنی ساری اولاد اور اپنے سارے گھر کے بچوں کو اور اپنے پڑوسیوں کو بھی سکھاؤ کیو کہ وہ نجات دلانے والی ہے اور قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لیے اپنے رب کے پاس جھگڑنے والی ہے اور یہ اسے تلاش کرے گی تاکہ اسے دوزخ کے عذاب سے نجات دلائے اور اس کا پڑھنے والا اس کے ذریعہ قبر کے عذاب سے نجات پائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ یہ سورة میری امت کے ہر فرد کے دل میں ہو۔ 7۔ ابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ زہری سے روایت کیا اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی جب مرا ان لوگوں میں سے جو تم سے پہلے تھے۔ اللہ کی کتاب میں سے اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی سوائے سورة تبرک الذی بیدہ الملک کے جب اس کو اس قبر میں رکھا گیا۔ اس کے پاس فرشتہ آیا تو یہ سورة اس کے سامن حائل ہوگئی۔ تو فرشتے نے اس سے کہا بلاشبہ تو اللہ کی کتاب میں سے ہے اور میں تیری مخالفت کو ناپسند کرتا ہوں۔ اور میں نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں نہ تیرے لیے اور نہ اس کے لیے اور نہ ہی اپنے لیے اگر تو اس کا ارادہ رکھتی ہے تو اپنے رب کے پاس چلی جا اور اس کے لیے سفارش کر، تو وہ رب کی طرف جائے گی اور کہے گی اے میرے رب، فلاں مرنے والے آدمی نے تری کتاب میں سے مجھ پر اعتماد کیا ہے اس نے مجھے سیکھا اور میری تلاوت کی۔ کیا آپ اس کو آگ کے ساتھ جلادیں گے یا اس کو عذاب دیں گے ؟ اس حال میں کہ میں اس کے پیٹ میں ہوں۔ اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اپنی کتاب سے مٹاد یجیے تو رب کریم فرمائیں گے خبردار سن میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو غصہ میں تو یہ سورت جو اب میں کہے گی غصہ ہونا میرا حق ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ جا میں نے تیرے لیے اس کو بخش دیا اور اس کے حق میں تیری شفاعت کو قبول کرلیا ہے پھر وہ سورة الملک آئے گی تو وہ پراگندہ حال نکل جائے اور اس کی کی طرف کوئی شے اس پر وارد نہیں ہوگی۔ پھر یہ سورت آئے گی اور اپنے منہ کو اس کے منہ پر رکھ دے گی۔ اور کہے گی خوش آمدید ہو اس منہ کو جس نے کئی بار میرے ساتھ قیام کیا۔ خوش آمدید اس سینے کوئی بار اس بار اس نے مجھے یاد کیا۔ اور خوش آمدید ان قدموں کو جنہوں نے کئی بار میرے ساتھ قیام کیا۔ اور اس کی قبر میں اس پر وحشت اور خوف کی وجہ سے اس کے ساتھ غم خواری کرتی رہے گی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو نہیں بچا نہ کوئی چھوٹا اور نہ بڑا اور نہ آزاد اور نہ غلام مگر اس نے اس سورة کو سیکھا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام نجات دلانے والی رکھا۔ 8۔ ابن الضریس والطبرانی والحاکم وصححہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ایک آدمی کو اس کی قبر میں لایا جائے گا اور اسے اس کے پاؤں کی جانب سے لایا جائے گا تو اس کی ٹانگیں کہیں گی تمہارے لیے میری جانب پر کوئی اختیار نہیں۔ یہ ہم پر سورة الملک پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تھا۔ پھر اسے لایا جائے گا اس کے سینے کی طرف سے تو وہ کہے گا نہیں ہے تمہارے لیے میری جانب کوئی اختیار کیونکہ اس نے میرے اندر سورة ملک کو محفوظ کیا ہے پھر اسے اس کے سر کی جانب سے لایا جائے گا تو وہ کہے گا نہیں ہے تمہارے لیے میری جانب سے کوئی راستہ کیونکہ یہ میرے ساتھ سورة ملک کو پڑھا کرتا تھا۔ تو یہ سورة روکنے والی ہے جو عذاب قبر سے روکتی ہے اور یہی سورت ملک تورات میں بھی ہے جو اسکو رات کو پڑھے گا تو اس نے کثیر اور خوب اچھا پڑھا۔ 9۔ طبرانی وابن مردویہ نے سند جید کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس کو مانعہ یعنی روکنے والی کا نام دیتے تھے۔ اور یہ اللہ کی کتاب میں سورة ملک ہے جو اس کو رات کو پڑھے گا تو اس نے کثیر اور خوب اچھا پڑھا۔ قبر کی آگ سے حفاظت کا ذریعہ 10۔ ابو عبید و بیہقی نے الدلائل من طرق مرۃ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میت جب مرجاتی ہے تو اس کے اردگرد آگ روشن کی جاتی ہے تو وہ ہر اس آگ کو کھاجاتی ہے جو اس کے قریب ہوتی ہے اگر اس کا کوئی عمل ایسا نہ ہو جو اس کے اور اس آگ کے درمیان حائل ہوا ایک آدمی مرگیا اور اس نے کوئی قرآن نہیں پڑھا سوائے اس تیس آیتوں والی سورة کے تو وہ اس کے سر کی طرف سے قریب آئے گی یہ مجھ کو پڑھا کرتا تھا تو اس کے پاؤں کی طرف سے آئے گی اور کہے گی کہ وہ میرے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ اور سورة ملک پڑھتا تھا پھر وہ آگ آئے گی اس کے پیٹ کی جانب سے تو وہ پیٹ کہے گا بیشک اس نے مجھے محفوظ کیا تھا تو وہ اس کو نجات دلا دے گی اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے اور مسروق نے مصحف میں دیکھا تو ہم نے نہ پایا تیس آیتوں والی سورة کو سوائے سورة تبارک الذی کے۔ 11۔ الدارمی وابن الضریس نے مرہ (رح) سے اسی طرح مرسلاً روایت کیا۔ 12۔ سعید بن منصور نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ قرآن میں ایک سورة ہے جو اپنے پڑھنے والے کے لیے قبر میں جھگڑا کرے گی۔ اس کی تیس آیتیں ہوں گی۔ تو انہوں نے غور سے دیکھا تو سورة تبارک الذی کو پایا۔ 13۔ الدیلمی نے انس ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا اس نے کوئی گناہ نہ چھوڑا ہوگا مگر وہ اللہ کو ایک جانتا تھا۔ اور وہ قرآن میں سے صرف ایک ہی سورة پڑھتا تھا۔ اس کو دوزخ کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا۔ تو اس کے پیٹ میں سے کوئی چیز شعلے کی طرح اڑے گی اور کہے گی اے اللہ ! بلاشبہ میں ان سورتوں میں سے ہوں جو آپ نے اپنے نبی پر نازل فرمائیں۔ اور یہ بندہ مجھ کو پڑھتا تھا۔ وہ سورة برابر سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کرادے گی اور وہ سورة نجات دینے والی یعنی آیت ” تبرک الذی بیدہ الملک “ ہے۔ 14۔ عبدالرزاق نے المصنف میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ اور سبح اسم ربک الاعلی اور صبح کی نماز میں جمعہ کے الم تنزیل اور تبرک الذی بیدہ الملک پڑھا کرتے تھے۔ 15۔ دیلمی نے سند واہ کے ستھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کی کتاب میں ایک سورة پاتا ہوں اس کی تیس آیتیں ہیں جو اس کو سوتے وقت پڑھے گا اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں مٹا دی جائیں گی اور تیس درجے بلند کردئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس پر اپنے پروں کو بھیلا دیتا ہے اور ہر چیز سے اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ جاگ جاتا ہے اور وہ سورة مجادلہ ہے جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کرتی ہے اور وہ سورة تبرک الذی بیدہ الملک ہے۔ 16۔ دیلمی نے سند واہ کے ساتھ انس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ میں نے عجیب منظر دیکھا میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو مرگیا اور اس کے گناہ بہت زیادہ تھے اور وہ زیادتی کرنے والا تھا اپنی جان پر جب اس کی قبر میں عذاب اس کے پاؤں کی جانب سے یا اس کے سر کی طرف سے اس کی طرف متوجہ ہوا تو یہ سورة آگئی جو ایک پرندے میں تھی اور آگ سے آکر جھگڑا کرنے لگی کہ یہ آدمی میری محافظت کرتا تھا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جو مجھ پر مواظبت کرے گا تو وہ اس کو عذاب نہیں دے گا تو اس کے سبب اس سے عذاب پھر گیا۔ اور مہاجرین اور انصار صحابہ اس سورت کو پڑھتے اور سمجھتے تھے اور کہتے تھے جنہوں نے اس کو نہ سیکھا وہ خسارے میں ہیں اور وہ سورة ملک ہے۔ سورۃ تبارک الذی کی فضیلت 17۔ ابن الضریس نے مرہ ہمدانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنی قبر کی اطراف سے لایا جائے گا تو قرآن میں سے تیس آیتوں والی سورت اس سے جھگڑتی رہے گی یہاں تک کہ اس کو عذاب قبر سے روک دے گی تو میں نے اور مسروق نے دیکھا تو ہم نے کوئی سورة نہ پائی سوائے تبارک الذی کے۔ 18۔ ابن مردویہ نے ابوالصباح کے طریق سے عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی داخل ہوگا قرآن مجید کی ایک سورة کی شفاعت کے سبب اور وہ تیس آیتوں والی ہے اور وہ عذاب قب سے اس کو نجات دلائے گی اور وہ ہے تبرک الذی بیدہ الملک۔ 19۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ الم تنزیل السجدۃ اور تبرک الذی بیدہ الملک ہر رات کو پڑھا کرتے تھے اور سفر حضر میں نہ چھوڑتے تھے۔ 20۔ ابن عساکر نے علی ؓ نے مرفوعاً روایت کیا کہ وہ کلمات جو شخص ان کو اپنی موت کے وقت کہے گا۔ جنت میں داخل ہوگا وہ کلمات یہ ہیں کہ آیت لا الہ الا ہو الحلیم الکریم تین مرتبہ آیت الحمد للہ رب العلمین تین مرتبہ اور آیت تبرک الذی بیدی الملک وہو علی کل شیء قدیر۔
Top