Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Qasas : 9
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
وَقَالَتِ : اور کہا امْرَاَتُ : بیوی فِرْعَوْنَ : فرعون قُرَّةُ : ٹھنڈک عَيْنٍ لِّيْ : میری آنکھوں کے لیے وَلَكَ : اور تیرے لیے لَا تَقْتُلُوْهُ : تو قتل نہ کر اسے عَسٰٓى : شاید اَنْ يَّنْفَعَنَآ : کہ نفع پہنچائے ہمیں اَوْ نَتَّخِذَهٗ : یا ہم بنالیں اسے وَلَدًا : بیٹا وَّهُمْ : اور وہ لَا يَشْعُرُوْنَ : (حقیقت حال) نہیں جانتے تھے
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا شاید کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے
(9) فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بن مزاحم جو حضرت موسیٰ ؑ کی پھوپھی تھیں انہوں نے فرعون سے کہا کہ ی بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل مت کرو بعید نہیں کہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور بنی اسرائیل کو پتا بھی نہ چلے کہ یہ ہمارا لڑکا ہے یا یہ کہ ان لوگوں کو انجام کی خبر ہی نہیں تھی کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کے ہاتھوں ان کی ہلاکت ہوگی۔
Top