Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Ahzaab : 7
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ
فَالْتَقَطَهٗٓ : پھر اٹھا لیا اسے اٰلُ فِرْعَوْنَ : فرعون کے گھر والے لِيَكُوْنَ : تاکہ وہ ہو لَهُمْ : ان کے لیے عَدُوًّا : دشمن وَّحَزَنًا : اور غم کا باعث اِنَّ : بیشک فِرْعَوْنَ : فرعون وَهَامٰنَ : اور ہامان وَجُنُوْدَهُمَا : اور ان کے لشکر كَانُوْا : تھے خٰطِئِيْنَ : خطا کار (جمع)
تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ ان کا دشمن اور (انکے لئے موجب) غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر چوک گئے
(8) غرض کہ ایسا ہی ہوا فرعون کی باندیوں نے پانی اور پتوں میں سے اس صندوق کو نکال لیا اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ ؑ کے پاس لے گئیں تاکہ رسالت مل جانے کے بعد وہ فرعونیوں کے دشمن اور فرعون کی سلطنت ختم ہوجانے کے بعد اس کے لیے باعث غم بنیں۔
Top