Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہوجائے صبح کو پانی تمہارا خشک پھر کون ہے جو لائے تمہارے پاس پانی نتھرا۔
قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ۔ یعنی آپ ان لوگوں کو بتلادیجئے کہ اس بات پر غور کریں کہ جو پانی کنوؤں کے ذریعہ با آسانی نکال کر پی رہے ہو اگر وہ پانی زمین کی گہرائی میں اتر جائے تو تمہاری کونسی طاقت ہے جو اس جاری پانی کو حاصل کر کسے۔ حدیث میں ہے کہ جب آدمی یہ آیت تلاوت کرے تو اس کو کہنا چاہے اللہ رب العاملین یعنی اللہ رب العالمین ہی پھر اس کو لا سکتا ہے ہماری کسی کی طاقت نہیں۔
تمت سورة الملک بحمد اللہ فی ثالث رجب 1391 ھ یوم الخمیس
Top