Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
(ان سے یہ بھی) کہو کہ اچھا تم یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارا پانی (زمین میں) نیچے کو اتر جائے تو پھر کون ہے جو تمہیں لا دے ستھرے پانی کی بہتی ہوئی سوتیں ؟2
39 ۔ منرین کے دلوں پر ایک دستک : سو اس سے منکرین کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک کے طور پر اور ان کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے ایک اور سوال کیا گیا۔ سو اس ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا تم نے کبھی سوچا کہ اگر تمہارا پانی نیچے چلا جائے ؟ اور اتنا نیچے چلا جائے کہ نہ تمہاری رسیاں اور تمہارے ڈھول وہاں تک پہنچ سکیں اور نہ تمہایر پائپوں اور نلکوں کی وہاں تک رسائی ہو سکے اور نہ تمہاری مشینیں اور تہارے ٹیوب ویل اس کو کھینچ کر اوپر لاسکیں، جیسا کہ بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ وہ پانی جو کہ عام طور پر چند فٹ کی گہرائی پر نکل آتا ہے، وہ سینکڑوں فٹوں کی کھودائی پر بھی نہیں مل سکتا، جس سے باغات وغیرہ خشک ہنے لگتے ہیں، سو جس خالق ومالک نے پانی قدرت کاملہ، رحمت شاملہ اور حکمت بالغہ سے پانی کے اتنے بڑے بڑے ذخائر تمہارے لئے سطح زمین کے نیچے اس کثرت وبہتات سے سٹور کر رکھے ہیں، جن سے تم لوگ جگہ جگہ اور طرح طرح سے اور نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ مستفید ہوتے ہو، اسی کو بھول جانا یا اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرلینا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو کیا تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا اور اس بارے غور کیا کہ اگر یہ پانی اتنا نیچے چلا جائے کہ تمہیں جان کے لالے پڑجائیں تو تمہیں یہ کون لا کر دے گا ؟ سو پانی کی یہ عظیم الشان نعمت جو تم لوگوں کو اس قدر آسانی اور اتنی سہولت اور فراوانی سے مل رہی ہے اگر اسی کے بارے میں تم لوگ صحیح معنی میں سوچ اور غور و فکر سے کام لو تو تم دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے آگے جھک اؤ اور ہر وقت اس کے حضور جھکے ہی رہو۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہی کہ تم لوگ اس بارے سوچتے ہی نہیں ہو بلکہ محض حیوانوں کی طرح اس سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم 40 پانی کی نعمت قدرت ایک عظیم الشان عنایت : سو پانی کی نعمت اور اس سے سرفرازی اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت و عنایت کا نتیجہ و ثمر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں نے اس بارے بھی کبھی سوچا کہ اگر تمہارا یہ پانی جس پر مشتق ہے جس کے معنی کثرت سے نکلنے والے پانی کے ہیں، یعنی میٹھا صاف اور بکثرت نکلنے والا پانی، اس صورت میں یہ فعیل بمعنی فاعل ہوگا اور یا یہ عین سے مشتق و ماخوذ ہے، جس کے معنی چشمے کے بھی آتے ہیں اور آنکھ کے بھی، تو تب یہ فعیل بمعنی مفعول ہوگا اور اس کے معنی ہوں گے ایسا پانی جو ظاہری آنکھوں سے نظر آسکے، (قرطبی وغیرہ) بہرکیف پانی جو کہ مابہ الحیاۃ ہے اور جس پر ہر ذی روح کی زندگی کا دار و مدار اور انحصار ہے، اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، اس سے وہ قادر مطلق نہایت پر حکمت طریقے سے اپنی مخلوق کو نوازتا ہے، ورنہ سوائے اس خدائے رحمٰن اور قادر مطلق سبحانہ و تعالیٰ کے اور کون ہے جو ایسا کرسکے اور صاف و ستھرے پانی کی سوتیں جاری کرسکے، تو پھر اسی ودہ لاشریک کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے کا استحقاق کسی اور کسی اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ حدیث شریف میں وارد ہے کہ اس آیت کریمہ کی تلاوت پر انسان کو کہنا چاہئے اللہ رب العالمین، یعنی اللہ رب العالمین ہی اس کو لاسکتا ہے اور کسی کے بس میں نہیں، (معارف وغیرہ) قللہ الحمد والشکر کما یحث ویرضی جل جلالہ۔
Top