Tafseer-al-Kitaab - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
(ان سے) پوچھو، کبھی تم نے غور کیا کہ اگر تمہارا (یہ کنوؤں کا) پانی (زمین میں) اتر جائے تو کون تمہارے لئے پانی کی سوتیں لے آئے گا ؟
[10] پس جب اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی کس کی مجال ہوسکتی ہے ؟
Top