Al-Qurtubi - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے سوا) کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے
قل ارئیتم اے قریش کی جماعت ! ان صبح مآء کم غوراً زمین میں دور چلا جائے ڈول اس تک نہ پہنچ سکیں۔ ان کا پانی دو چشموں سے حاصل ہوتا تھا۔ بر زمزم اور بئر میمون۔ فمن یاتیکم بمآء معین۔ معین کا معنی جاری ہے، یہ قتادہ اور ضحاک کا قول ہے۔ ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی لانے والا نہیں، تو فرمایئیے : تم اس کے ساتھ ایسی کیوں شریک ٹھہراتے ہو جو تمہارے لئے پانی لانے والا بھی نہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : غار الماء یغور غورا پانی کا دور چلا جانا، غور، غائر کے معنی میں ہے۔ مبالغہ کے لئے مصدر کے ساتھ صفت ذکر کی گئی ہے جس طرح تو کہتا ہے : رجل عدل و رضا سورة کہف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ سورة مومنون میں بھی یہ بحث گزر چکی ہے۔ الحمد للہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ماء معین کا معنی ہے ظاہر پانی جسے آنکھیں دیکھ سکیں (3) یہ مفعول کا وزن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ معن الماء سے مشتق ہے یعنی زیادہ ہوجانا اس وقت فعیل کا وزن ہوگا۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے : معنی ہے کون میٹھا پانی لائے گا ؟ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Top