Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے سوا) کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے
(67:30) ارائیتم : ملاحظہ ہو 67:28 متذکرۃ الصدر۔ ان اصبح ماء کم غورا : ان شرطیہ جملہ شرطیہ ہے۔ اصبح : ماضی واحد مذکر غائب افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح (افعال) مصدر۔ اس نے صبح کی۔ اس کو صبح ہوئی۔ ہوگیا۔ ماء کم : مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا پانی، یعنی وہ پانی جو تمہارے استعمال کے لئے تمہیں جیا کہا جاتا ہے۔ جیسے پینے کا پانی ، فصلوں کی آبپاشی کے لئے مطلوبہ پانی۔ غورا : غور مصدر ہے بمعنی فاعل۔ غور کے معنی ہیں پانی کا زمین کے اندر گھس جانا۔ کسی چیز کا اندر کی طرف چلے جانا (باب نصر) ۔ یہاں آیت ہذا میں غور (مصدر) بمعنی غایر زمین میں گھس کر خشک ہوجانے والا پانی، جو ہاتھ یا ڈول وغیرہ کی دسترس سے باہر ہوگیا ہو۔ نشیبی جگہ یا گڑھا کو بھی غور کہتے ہیں۔ غورا بوجہ خبر اصبح کے منصوب ہے۔ فمن یاتیکم بماء معین : جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے۔ من استفہامیہ انکاریہ، کون ؟ کوئی بھی نہیں۔ ماء معین : موصوف و صفت، جاری پانی۔ معین صیغہ صفت بروزن فعیل بمعنی جاری۔ معن مصدر۔ جاری ہونا۔ جاری کرنا۔ گھاس کا سیراب ہونا۔ بعض کے نزدیک معین میں میم زائد ہے عین کا معنی ہے ظہور۔ وہ جاری پانی جس کو سامنے ہونے کی وجہ سے ہر کوئی دیکھ لے۔ کہیں جھاڑیوں اور جنگلوں میں چھپا ہوا نہ ہو معین کہلاتا ہے۔ بغوی (رح) نے اس کے معنی لکھے ہیں : بالکل سامنے ، جس کو آنکھیں دیکھ سکیں اور ہاتھوں اور ڈولوں سے اس کو لیا جاسکے۔ (اللہ رب العلمین)
Top