Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
آپ فرمائیے اچھا یہ تو بتائو کہ اگر تمہارا پانی زمین میں اتنا اترجائے کہ حاصل نہ کیا جاسکے تو وہ کون ہے جو تمہارے لئے صاف بہتا پانی لے آئے۔
(30) آپ فرمائییاچھا یہ تو بتائو کہ اگر تمہارا پانی زمین میں اتنا نیچے اتر جائے کہ حاصل نہ ہوسکے یعنی اتر کر غائب ہوجائے تو وہ کون ہے جو تمہارے لئے بہتا پانی لے آئے۔ یعنی ہماری بات تو صاف اور سیدھی ہے کہ ہم خدائے رحمان پر ایمان رکھتے ہیں ہم سب کا اسی پر بھروسہ ہے تمہارا نہ اس پر ایمان نہ اس پر بھروسہ لہٰذا عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کون کھلی اور صریح گمراہی میں مبتلا ہے یعنی تم یا ہم ۔ ہماری بات صحیح ہے یا تمہاری بات درست ہے مرتے کے ساتھ ہی سب حال معلوم ہوجائے گا۔ آخر میں حضرت حق جل مجدہ کی بادشاہی اس کی علی الاطلاق قدرت اور اس کے مختار کل ہونے کی طرف ایک اور بات فرمائی کہ اے پیغمبران سے دریافت کرو کہ بھلا یہ توبتائو اور اس بات پر تو غور کرو کہ تمہارا پانی اگر زمین میں اتر جائے خواہ کنویں کا پانی ہو یا دریا کا ہو یا نہر کا ہو وہ زمین کے اندر اس قدر نیچے چلا جائے کہ زمین کے اوپر نہ لایا جاسکے تو وہ کون ہے جو زمین کے نیچے اترے ہوئے پانی کو اوپر لے آئے۔ یعنی جہاں تمام اسباب معطل ہوجائیں تو وہ کون ہے جو صاف اور نتھرا پانی تمہارے لئے سطح زمین میں لے آئے۔ غور کے معنی ہیں بہت گہرائی میں پانی کا اتر جاناایسی گہرائی جہاں سے پانی حاصل نہ کیا جاسکے ہم نے پانی کو عام رکھا ہے جیسا کہ ہمارے بعض اکابر نے آنکھوں میں جو بینائی کا پانی ہوتا ہے اس کو بھی شامل کیا ہے ۔ معین یعنی صاف نتھر یا جاری ہم نے ترجمہ میں دونوں معنی کئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے۔ اللہ یاتینا بہ وھو رب العلمین۔ تم تفسیر سورة الملک
Top