Maarif-ul-Quran - An-Naba : 23
لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ
لّٰبِثِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں فِيْهَآ : اس میں اَحْقَابًا : مدتوں
رہا کریں اس میں قرنوں
لّٰبِثِيْنَ فِيْهَآ اَحْقَابًا، لابثین، لابث کی جمع ہے جس کے معنے ٹھہرنے والے اور قیام کرنے والے کے ہیں، احقاب حقبہ کی جمع ہے، زمانہ دراز کو حقبہ کہا جاتا ہے، اس کی مقدار میں اقوال مختلف ہیں۔ ابن حریر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اس کی مقدار اسی سال نقل کی اور ہر سال بارہ مہینے کا اور ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن ایک ہزار سال کا۔ اس طرح تقریباً دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا ایک حقبہ اور حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، ابن عباس وغیرہ نے مقدار حقبہ اسی کے بجائے ستر سال قرار دی باقی حساب وہی ہے (ابن کثیر) مگر مسند بزار میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مرفوعاً یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ،
لایخرج احدکم من النار حتی یمکث فیہ احقاباً والحقب بضع وثمانون سنتہ کل سنة ثلث مائتہ و ستون یوما مما تعدون (از مظہری)
تم میں سے جو لوگ گناہوں کی سزا میں جہنم میں ڈالے جائیں گے کوئی اس وقت تک جہنم سے نہ نکلے گا جب تک اس میں چند احقاب نہ رہ لے اور حقبہ کچھ اوپر اسی سال کا اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا ہے تمہارے موجودہ دنوں کے مطابق
اس حدیث میں اگرچہ اس آیت مذکورہ کی تفسیر مذکور نہیں ہے مگر بہرحال لفظ احقاب کے معنی کا بیان ہی چند صحابہ کرام سے جو اس میں ہر دن ایک ہزار سال کا منقول ہے اگر وہ بھی آنحضرت ﷺ سے سنا ہوا ہے تو روایات حدیث میں تعارض ہوا، اس تعارض کے وقت کسی ایک پر جرم و یقین تو نہیں ہوسکتا مگر اتنی بات دونوں ہی روایتوں میں مشترک ہے کہ حقبہ یا حقب بہت ہی زیادہ طویل زمانے کا نام ہے اسی لئے بیضاوی نے احقاباً کی تفسیم دھور متتابعہ سے کی ہے یعنی پے در پے بہت سے زمانے۔
جہنم کے خلود اور دوام پر اشکال و جواب۔ حقبہ کی مقدار کتنی بھی طویل سے طویل قرار دی جائے بہرحال وہ متناہی اور محدود ہے۔ اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس مدت طویلہ کے بعد کفار اہل جہنم بھی جہنم سے نکل جاویں گے حالانکہ یہ قرآن مجید کی دوسری واضح نصوص کے خلاف ہے جن میں (آیت) خلدین فیھاً ابدا کے الفاظ آئے ہیں اور اسی لئے ا مت کا اس پر اجماع ہے کہ نہ جہنم کبھی فنا ہوگی، نہ کفار کبھی اس سے نکالے جائیں گے۔
سدی نے حضرت مرہ بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ کفار اہل جہنم کو اگر یہ خبر دی جائے کہ ان کا قیام جہنم میں دنیا بھر میں جتنی کنکریاں تھیں ان کے برابر ہوگا تو وہ اس پر بھی خوش ہوں گے کہ بالاخر یہ کنکریاں اربوں کھربوں کی تعداد میں سہی پھر بھی محدود اور متناہی تو ہیں، بہرحال کبھی نہ کبھی اس عذاب سے چھٹکارا ہوجائے گا اور اگر اہل جنت کو یہی خبر دی جائے کہ ان کا قیام جنت میں دنیا بھر کی کنکریوں کے عدد کے مطابق سالوں رہے گا تو وہ غمگین ہوں گے کہ کتنی ہی مدت دراز سہی مگر بہرحال اس مدت کے بعد جنت سے نکال دیئے جاویں گے۔ (مظہری)
بہرحال اس آیت میں احقاباً کے لفظ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چند احقاب کے بعد کفار اہل جہنم بھی جہنم سے نکال لئے جاویں گے، تمام نصوص اور اجماع امت کیخ، لاف ہونے کی بنا پر یہ مفہوم معتبر نہیں ہوگا کیونکہ اس آیت میں اس کی تصریح تو ہے نہیں کہ احقاق کے بعد کیا ہوگا صرف اتنا ذکر ہے کہ مدت احقاب ان کو جہنم میں رہنا پڑے گا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ احقاب کے بعد جہنم نہیں رہے گا یا یہ لوگ اس سے نکال لئے جاویں گے۔ اسی لئے حضرت حسن نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اہل جہنم کے لئے جہنم کی کوئی میعاد اور مدت مقرر نہیں فرمائی جس کے بعد ان کا اس سے نکل جانا سمجھا جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب ایک حقبہ زمانے کا گزر جائے گا تو دوسرا شروع ہوجائیگا، اسی طرح دوسرے کے بعد تیسرا چوتھا یہاں تک کہ ابدالآباد یہی سلسلہ رہے گا اور سعید بن حبیر نے قتادہ سے بھی یہی تفسیر روایت کی ہے کہ احقاب سے مراد وہ زمانہ ہی جس کا انقطاع اور انتہا نہیں بلکہ ایک حقب ختم ہوگا تو دوسرا حقب آجائے گا اور یہی سلسلہ ابد تک رہیگا (ابن کثیر و مظہری) اور یہاں ایک دوسرا احتمال اور بھی ہے جس کو ابن کثیر نے یحتمل کے لفظ سے بیان کیا ہے اور قرطبی نے فرمایا کہ یہ بات بھی ممکن ہے اور مظہری نے اسی کو اختیار کیا ہے وہ احتمال یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ طاغین سے مراد کفار نہ لئے جاویں بلکہ وہ اہل توحید جو عقائد باطلہ کے سبب اسلام کے گمراہ فرقوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو محدیثین کی اصطلاح میں اہل اہواء کہا جاتا ہے وہ مراد ہوں تو آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ ایسے اہل توحید کلمہ گو جو عقائد باطلہ رکھنے کے سبب کفر کی حدود تک پہنچے ہوئے تھے مگر صریح کا فرنہ تھے وہ مدت احقاب جہنم میں رہنے کے بعد بالاخر کلمہ توحید کی بدلوت جہنم سے نکال لئے جاویں گے۔
مظہری نے اس احتمال کی تائید میں وہ حدیث مرفوع بھی پیش کی جو اوپر حضرت عبد اللہ بن عمر سے بحوالہ مسند بزار نقل ہوچکی ہے جس میں آپ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ مدت احقاب گزرنے کے بعد یہ لوگ جہنم سے نکال لئے جاویں گے مگر ابوحیان نے فرمایا کہ بعد کی آیت ۭاِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا 27؀ۙوَّكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا اس احتمال کے منافی ہیں کہ طاغین سے مراد اس جگہ اہل توحید اور گمراہ فرقے ہوں کیونکہ ان آخری آیات میں قیامت کے انکار اور تکذیب رسل کی تصریح ہے اسی طرح ابوحیان نے مقاتل کے اس قول کو بھی فاسد قرار دیا ہے کہ اس آیت کو منسوخ مانا جائے۔
اور ایک جماعت مفسرین نے ایک تیسرا احتمال اس آیت کی تفسیر میں یہ قرار دیا ہے کہ اس آیت کے بعد کا جملہ لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا 24؀ۙاِلَّا حَمِيْمًا وَّغَسَّاقًا یہ احقاباً سے جملہ حالیہ ہوا اور معنی آیت کے یہ ہوں کہ احقاب کے زمانہ دراز تک یہ لوگ نہ ٹھنڈی لذیذ ہوا کا ذائقہ چکھیں گے نہ کسی کھانے اور پینے کی چیزیں کا بجز حمیم اور غساق، پھر احقاب گزرنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ یہ حال بدل جائے اور دوسری اقسام کے عذاب ہونے لگیں حمیم وہ کھولتا ہوا گرم پانی ہے کہ جب چہرہ کے قریب آئے گا تو اس کا گوشت جل جائے گا اور جب پیٹ میں ڈالا جائے گا تو اندرونی اعضاء کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور غساق وہ خون اور پیپ وغیرہ جو اہل جہنم کے زخموں سے نکلے گی۔
Top