Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور جو اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ (برابر کا) لے لے، سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں،46۔
46۔ یہاں دو اصول ارشاد ہوئے ہیں : (1) ایک قانون عدل، کہ جو جیسا کرے گا، ویسا پائے گا۔ مثلا دانت کا بدلہ دانت اور آنکھ کا بدلہ آنکھ، لیکن یہاں بھی یہ شرط ہے کہ وہ شے فی نفسہ ممنوع و حرام نہ ہو۔ مثلا لوٹ کا بدلہ لوٹ اور زنا کے عوض زنا، کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ (2) دوسرا قانون فضل۔ یعنی رحم ورعایت کا قانون۔ آیت سے انتقام کا صرف جواز نکلتا ہے نہ کہ اس کی ماموریت۔ ؛ ومقتضی ذلک اباحۃ الانتصار لا الامربہ (جصاص)
Top