Tafseer-e-Saadi - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اسکے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
آیت 41 اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مرتاب بیان کئے ہیں، عقوبات کے تین مرتاب ہیں : عدل، فضل اور ظلم (1) کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اس جیسی برئای، متربہ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اور اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ (2) برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبہ فضل ہے، اس لئے فرمایا : (فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ) ” پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عضو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عضو پا مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، کفو پر آمادہ کرتا ہے، نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے تو جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے معاف کردے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ (3) رہا مرتبہ ظلم تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے : (ان لایحب الظلمین) ” یقیناً وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظمل ہے۔ (ولمن انتصر بعد ظلمہ) جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے (فاولئک ما علیھم من سبیل) تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (والذین اذا اصابھم البغی) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ولمن انتصر بعد ظلمہ) دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا جبکہ ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا ہے۔ (انما السبیل) یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انہی لوگوں پر قائم ہوگی (علی الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر الحق) ” جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔ “ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے۔ (اولئک لھم عذاب الیم) یعنی انکے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہوگا۔ (ولمن صبر) ” اور جو صبرے کرے۔ “ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے (وغفر) یعنی ان سے جو جرم ہوا، مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے (ان ذلک لمن عزم الامور) یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ ٰ نے ترغیب دی، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انہی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیقف بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لئے قول یا فعل سے انتقام نہلینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا اس کو بخشش دینا اور اس کے مقابلے میں حس نسلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پر مشقت کام ہے مگر یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لئے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔ پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرت ا ہے۔
Top