Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 21
عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا
عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ : انکے اوپر کی پوشاک سُنْدُسٍ : باریک ریشم خُضْرٌ : سبز وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ : اور دبیز ریشم (اطلس) وَّحُلُّوْٓا : اور انہیں پہنائے جائیں گے اَسَاوِرَ : کنگن مِنْ فِضَّةٍ ۚ : چاندی کے وَسَقٰىهُمْ : اور انہیں پلائے گا رَبُّهُمْ : ان کا رب شَرَابًا : ایک شراب (مشروب) طَهُوْرًا : نہایت پاک
ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا
علیھم ثیاب سندس . ثیاب مبتداء ہے یا خبر ہے یا عٰلِیَِھُمْ کا فاعل ہے۔ لفظ سندس معرب ہے ‘ ایک قسم کا باریک ریشمی دیبا ہوتا ہے۔ (قاموس) خضر واستبرق . موٹی ریشمی دریائی۔ استبرہ کا معرب ہے یا زربفت یا دیبا (دریائی) کی طرح کوئی ریشمی دبیز کپڑا ہوتا ہے۔ (قاموس) حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے ‘ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ جنتیوں کے کپڑوں کے متعلق ارشاد فرمائیے ‘ کیا وہ کوئی پیدا ہونے والی چیز ہے ‘ جس کی تخلیق کی جائے گی یا بننے والی چیز ہے جس کو بنا جائے گا ؟ فرمایا : نہیں ‘ وہ ایسی چیز ہے جو جنت سے پھوٹ کر نکلے گی وہ جنت کا ایک پھل ہے۔ (رواہ النسائی و البزار والبیہقی بسند جید) حضرت جابرکا قول مروی ہے کہ جنت میں ایک درخت سے سندس پیدا ہوگا جس سے اہل جنت کے کپڑے (تیار) ہوں گے۔ (رواہ البزار والطبرانی و ابو یعلی بسند صحیح) حضرت عمر کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس (مرد) نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا۔ (بخاری و مسلم) نسائی اور حاکم نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی بیان کی ہے۔ اس میں اتنا زائد ہے کہ جس نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں نہیں پئے گا اور جس نے سونے ‘ چاندی کے برتنوں میں دنیا میں کچھ کھایا ‘ پیا وہ آخرت میں سونے چاندی کے برتنوں میں پینے سے محروم رہے گا۔ صحیحین میں حضرت عمر کی روایت کی طرح حضرت انس ؓ اور حضرت زبیر ؓ سے بھی حدیث مروی ہے اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے مگر اس روایت میں اتنا زائد ہے اگر وہ جنت میں داخل ہو بھی جائے گا تو ریشم تب بھی نہیں پہنے گا۔ ابوداؤد نے صحیح سند سے اس کو بیان کیا ہے۔ نسائی ‘ ابن حبان اور حاکم بھی اس کے ناقل ہیں۔ و حلوا س اور من فضۃ . یہ یطوف علیھم پر معطوف ہے یا عالیھُم کی ضمیر سے حال ہے اور قَدْ محذوف ہے۔ اَسَاوِرَ سے پہلے حرف جر محذوف ہے۔ مِنْ فِضَّۃٍ میں من بیانیہ ہے۔ یعنی اہل جنت کو چاندی کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ دوسری آیت میں : اساور من ذہب آیا ہے۔ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان دونوں آیات میں تعارض نہیں ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ دونوں قسم کے ساتھ پہنائے جائیں ‘ یا ایک کے بعد دوسرے پہنائے جائینگے یا کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی پہنائے جائیں یہ بھی ممکن ہے کہ اساَوِر کو خادموں کی حالت کا بیان قرار دیا جائے۔ اس وقت خادموں کے کنگن چاندی کے ہوں گے اور اہل جنت کے سونے کے اور ایک کنگن چاندی کا دوسرا موتیوں کا۔ ابو الشیخ نے العظمۃ میں کعب احبار کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کا ایک فرشتہ اہل جنت کیلئے زیور آغاز آفرنیش سے بنا رہا ہے اور قیامت بپا ہونے تک بناتا رہیگا اور اہل جنت کا کوئی ایک زیور بھی نمودار ہوجائے تو سورج کی روشنی (پر غالب آجائے اور وہ) جاتی رہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کے (ہاتھ کے) زیور وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا (یا پہنچتا ہے) نسائی اور حاکم نے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اگر تم جنت کا زیور اور ریشمی لباس پسند کرتے ہو تو دنیا میں اس کو نہ پہنو۔ و سقھم ربھم شرابا طھورا . تمام گندگیوں سے اور ہاتھوں کے چھونے سے پاک۔ ابو قلابہ اور ابراہیم کا قول ہے کہ جنت کی شراب اہل جنت کے بدن میں ناپاک پیشاب نہیں بن جائے گی بلکہ پسینہ بن جائے گی۔ جس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی ‘ اس کی صورت یہ ہوگی کہ پہلے کھانا دیا جائے گا ‘ پھر شراب طہور دی جائے گی۔ شراب پینے سے ان کے پیٹ پاک ہوجائیں گے اور جو کچھ کھایا ہوگا وہ پسینہ بن کر جلد بدن سے خارج ہوجائے گا جس کی خوشبو خالص مشک جیسی ہوگی (پسینہ آنے کے بعد) پھر کھانے کی خواہش لوٹ آئے گی۔ مقاتل نے کہا : جنت کے دروازہ پر پانی کے ایک چشمہ کا نام طہور ہے جو شخص اس کا پانی پئے گا ‘ اللہ اس کے دل سے ہر طرح کا کینہ اور حسد نکال دے گا۔ بیضاوی نے کہا ان اقوال سے بہتر وہ قول ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ یہاں شراب کی ایک اور خاص قسم مراد ہے جو دونوں مذکورہ اقسام سے اعلیٰ ہے ‘ اسی کو عطا فرمانے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی ہے اور اسی کو طہور فرمایا ہے کیونکہ اس کو پینے والا تمام حسی لذتوں کی طرف میلان اور غیر اللہ کی طرف رغبت سے پاک ہوجاتا ہے۔ صرف جمال ذات کا معائنہ کرتا اور دیدارِ الٰہی سے لذت اندوز ہوتا ہے۔ یہ درجہ ثواب ابرار کا آخری درجہ اور صدیقین کے ثواب کا ابتدائی مرتبہ اور مبتداء ہے۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے ‘ بعض کا قول ہے کہ فرشتے اہل جنت کو شراب پیش کریں گے مگر وہ قبول کرنے سے انکار کردیں گے اور کہیں گے درمیانی وسائل سے تو ہم مدت دراز سے لیتے ہی رہیں ہیں (اب تو براہ راست لیں گے) اچانک غیب سے بغیر ہاتھوں کی وساطت کے پیالے منہ سے لگ جائیں گے ‘ اس قول کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابن ابی الدنیا نے جید سند کے ساتھ نقل کی ہے کہ حضرت ابو امامہ نے فرمایا : جنتی آدمی شراب کی خواہش کرے گا ‘ شراب فوراً اس کے ہاتھ میں آجائے گی ‘ وہ پی لے گا پینے کے بعد پیالہ لوٹ کر اپنی جگہ چلا جائے گا۔ شیخ یعقوب کرخی (رح) نے فرمایا کہ سابقین مقربین کو زیرین عرش سے بغیر کسی درمیانی ذریعہ کے شراب ملے گی اور درمیانی درجہ والوں کو یعنی ابرار کو فرشتے دیں گے ‘ باقی اہل جنت کو یعنی ان لوگوں کو جو گناہوں کی بخشش کے بعد یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں داخل ہوئے ہوں گے ‘ غلمان شراب پیش کریں گے۔ میں کہتا ہوں ہوں ‘ ان آیات میں تو ابرار کے احوال کا تذکرہ ہے ‘ اس لیے ممکن ہے کہ کبھی ان کے غلمان کے ذریعہ سے ‘ کبھی ملائکہ کے ذریعہ سے اور کبھی بغیر کسی ذریعہ کے شراب دی جائے البتہ اہل قربت کو اکثر بغیر واسطہ کے دی جائے گی۔
Top