Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 19
وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا
وَيَطُوْفُ : اور گردش کرینگے عَلَيْهِمْ : ان پر وِلْدَانٌ : لڑکے مُّخَلَّدُوْنَ ۚ : ہمیشہ (نوعمر) رہنے والے اِذَا رَاَيْتَهُمْ : جب تو انہیں دیکھے حَسِبْتَهُمْ : تو انہیں سمجھے لُؤْلُؤًا : موتی مَّنْثُوْرًا : بکھرے ہوئے
اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) رہیں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں
و یطوف علیھم ولدان . ولدان ‘ غلمان جن کو اہل جنت کی خدمت کے لیے اللہ پیدا کرے گا یا کافروں کے نابالغ بچے جن کو اہل جنت کا خادم بنایا جائے گا۔ مخلدون یعنی نہ مریں گے نہ بوڑھے ہوں گے۔ اذا رایتھم حسبتھم لولوا منثورا . غلمان ‘ اہل جنت کی خدمت کے لیے منتشر ہوں گے اور منتشر موتیوں کی طرح دکھائی دیں گے۔ غلمان کی صف بندی وجہ تشبیہ نہیں ورنہ پروئے ہوئے موتیوں سے تشبیہ دی جاتی ‘ ابن مبارک اور ہناد اور بیہقی نے حضرت ابن عمرکا قول نقل کیا ہے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا جس کی خدمت میں ایک ہزار خادم لگے ہوں گے اور ہر خادم کا کام دوسرے خادم کے کام سے جدا ہوگا ‘ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے کم درجہ کے جنتی کے سر کے پیچھے دس ہزار خادم (خدمت کے لیے) کھڑے ہوں گے ‘ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا سب سے کم مرتبہ والا جنتی وہ ہوگا جس کے پاس خدمت کے لیے صبح و شام پانچ ہزار خادم آئیں گے اور ہر خادم کے پاس (کھلانے پلانے کے لیے) ایسا برتن ہوگا جو دو سرے خادم کے پاس نہ ہوگا ‘ واللہ اعلم۔ ابن المنذر نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت حضور ﷺ کھجور کی ٹہنیوں کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور پہلو پر نشان پڑگئے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر ؓ رو دیئے۔ ارشاد فرمایا : کیوں روتے ہو ؟ حضرت عمر ؓ نے کسریٰ اور اس کی حکومت ‘ ہُرمز اور اس کی حکومت ‘ شاہ حبشہ اور اس کی حکومت کا ذکر کیا اور عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور کھجور کی ٹہنیوں کی چٹائی پر تشریف فرما ہیں ‘ فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہے اور ہمارے لیے آخرت۔ اس پر اللہ نے مندرجۂ ذیل آیت نازل فرمائی۔
Top