Ahkam-ul-Quran - Al-Qasas : 54
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ
اِنَّمَا : صرف الصَّدَقٰتُ : زکوۃ لِلْفُقَرَآءِ : مفلس (جمع) وَالْمَسٰكِيْنِ : مسکین (جمع) محتاج وَالْعٰمِلِيْنَ : اور کام کرنے والے عَلَيْهَا : اس پر وَالْمُؤَلَّفَةِ : اور الفت دی جائے قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل وَفِي : اور میں الرِّقَابِ : گردنوں (کے چھڑانے) وَالْغٰرِمِيْنَ : اور تاوان بھرنے والے، قرضدار وَفِيْ : اور میں سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ وَابْنِ السَّبِيْلِ : اور مسافر فَرِيْضَةً : فریضہ (ٹھہرایا ہوا) مِّنَ : سے اللّٰهِ : اللہ وَاللّٰهُ : اور اللہ عَلِيْمٌ : علم والا حَكِيْمٌ : حکمت والا
اے ایمان والو مت ضائع کرو اپنی خیرات احسان رکھ کر اور ایذاء دے کر اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر522 سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر پڑی ہے کچھ مٹی پھر برسا اس پر زور کا مینہ تو کر چھوڑا اس کو بالکل صاف523 کچھ ہاتھ نہیں لگتا ایسے لوگوں کے ثواب اس چیز کا جو انہوں نے کمایا اور اللہ نہیں دکھاتا سیدھی راہ کافروں کو
522 اب یہاں نہایت تاکید کے ساتھ من اور اذی سے منع فرمایا ہے اور واضح کردیا ہے کہ من اور اذی سے صدقہ باطل ہوجتا ہے اور اس کا کوئی ثواب نہیں ملتا۔ الَّذِيْ يُنْفِقُسے مراد منافق یا مشرک ہے۔ و غالب المفسرین قال ان المراد بہ المنافق (روح ص 35 ج 3) رئاء۔ ینفق کا مفعول لہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک منافق ریا کار کی مثال دے کر ایمان والوں کو سمجھایا کہ جس طرح وہ منافق محض لوگوں کے دکھلاوے کے لیے خیرات کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ پر اس کا ایمان ہے اور نہ محاسبہ آخرت پر طو ظاہر ہے کہ رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کی طلب کا تو اس کے دل میں کھٹکا تک نہیں ہوگا تو جس طرح اس ریا کار منافق کی خیرات بالکل رائیگاں اور اکارت ہے اور اس کیلئے کوئی ثواب نہیں۔ اے ایمان والو ! اسی طرح تم بھی اپنے صدقات کو من اور اذی کے ذریعے باطل نہ کرو جس طرح اس ریاکار نے ریاکاری سے اپنا عمل باطل کردیا۔ 523 فَمَثَلُهٗ کی ضمیر سے ریاکار خرچ کنندہ مراد ہے۔ صفوان کے معنی ہموار اور صاف پتھر وابل۔ شدید بارش اور صلد وہ صاف پتھر جس پر کوئی گردوغبار نہ ہو۔ جو شخص ریاکاری سے مال خرچ کرتا ہے۔ اس کے عمل کے رائیگاں اور بےنتیجہ ہونے کی مثال یہ ہے کہ جس طرح ایک بالکل صاف اور نرم پتھر ہو ہو اور اس پر معمولی سی مٹی ہو پھر اس پر سخت زور کی بارش ہوجائے تو وہ پتھر مٹی سے بالکل صآف ہوجاتا ہے اور اس پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ یہی حال ریاکاروں کے غیر مخلصانہ اور ریا کارانہ اعمال کا ہے کہ وہ ریاکاری کے سیلاب میں بہہ کر ضائع ہوجاتے ہیں اور ان پر کوئی ثواب نہیں ملتا۔ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ۭ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ کیا ہے مگر آخرت میں کوئی چیز ہاتھ نہیں آئے گی۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ جن کو اللہ نے عقل وبصیرت کی دولت دی۔ مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور جان بوجھ کر کفر اختیار کیا۔ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ ایمان کی توفیق چھین لیتا ہے اور انہیں ہدایت نہیں دیتا۔
Top