Tafseer-e-Jalalain - At-Taghaabun : 15
وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ
وَاسْتَكْبَرَ : اور مغرور ہوگیا هُوَ : وہ وَجُنُوْدُهٗ : اور اس کا لشکر فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں بِغَيْرِ الْحَقِّ : ناحق وَظَنُّوْٓا : اور وہ سمجھ بیٹھے اَنَّهُمْ : کہ وہ اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا يُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جائیں گے
اور اس نے اور اس کی فوجوں نے ناحق تکبر کیا اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹیں گے
وَاسْتَـکْبَرَھُوَ وَجُنُوْدُہٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اِلَیْنَا لاَ یُرْجَعُوْنَ ۔ (القصص : 39) (اور اس نے اور اس کی فوجوں نے ناحق تکبر کیا اور انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹیں گے۔ ) فرعون اور اس کے عیان سلطنت اعتقاد کی جس خرابی اور عمل کی جس ناہمواری کا شکار تھے اس کا سبب اپنے وسائل پر بیجا اعتماد اور اپنی ذات پر جھوٹا پندار تھا جس نے انھیں ایک ایسے ناحق گھمنڈ میں مبتلا کردیا تھا کہ وہ زمین پر اپنے آپ کو سب سے بڑی قوت سمجھنے لگے تھے۔ ملک کی مطلق العنان حکومت کے باعث ایک ایسے اقتدار کے نشے میں مخمور تھے جس نے انھیں اپنے انجام سے بالکل بےفکر کردیا تھا اور انھیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ کبھی لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس نہیں جائیں گے۔ نہ جانے انھیں یہ بات کیوں سمجھ نہ آتی تھی کہ جس ذات نے کائنات کو پیدا کیا ہے اور جو کائنات کے تدبیر و انتطام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ کسی کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں ہے۔ اس کی موجودگی میں کوئی ایسا شخص جس نے نہ کسی مخلوق کو پیدا کیا اور نہ مخلوق کے انتظام و انصرام کو چلانے میں اس کا کوئی حصہ ہے وہ اگر حاکم حقیقی کے سامنے خودسری دکھائے تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کی شامت اسے بلا رہی ہے۔ یہی وہ استکبارِ ناحق ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے برگشتہ کرتا اور اس کو اپنے انجام سے لاپرواہ کردیتا ہے۔ چناچہ فرعون نے بھی اسی سرکشی کے باعث اپنے آپ کو شتربے مہار بنا کے چھوڑا۔ اور اس کے نتیجہ آخر یہ ہوا۔
Top