Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Hashr : 15
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ
كَمَثَلِ : حال جیسا الَّذِيْنَ : جو لوگ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل قَرِيْبًا : قریبی زمانہ ذَاقُوْا : انہوں نے چکھ لیا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ : اپنے کام کا وبال وَلَهُمْ : اور ان کے لئے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
(جن کو یہ دے رہے ہیں) ان کا وہی حال ہوگا جو ان لوگوں کا ہوا جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا وبال چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے ایک درد ناک عذاب بھی ہے۔
(کمثل الذین من قبلھم قریبا ذا قواوبال امرھم ولھم عذاب الیم) (15)۔ (بنو نضیر کے انجام کی مثال)۔ یہ مثال دی ہے ان لوگوں کے انجام کی جن کو یہ منافقین ابھا رہے تھے کہ اگر آپ لوگ نکالے گئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکل جائیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ ان کی بھڑی میں آ کر کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھے تو یاد رکھیں کہ ان کا انجام بھی رہی ہوگا جو ان لوگوں کا ہوچکا ہے جو ابھی جلد ہی اپنی شرارت کا مزا چکھ چکے ہیں۔ (الذین من قبلھم قریبا ذا قواوبال امرھم) سے عام طور پر لوگوں نے قریش کو مراد لیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اشارہ غزوہ ٔ بدر کی طرف ہے کہ جس طرح بدر میں قریش کو منہ کی کھانی پڑی اسی طرح یہ لوگ بھی منہ کی کھائیں گے۔ یہ اشارہ اگرچہ قریش کی طرف بھی ہوسکتا ہے، بلکہ بنو قینقاع کی طرف بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ ابن کثیر ؓ نے سمجھا ہے، لیکن میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ ان آیات میں اس سازش کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جو بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد منافقین نے بنو قریظہ کے ساتھ کرنی شروع کی تھی، اس وجہ سے میرے نزدیک یہ اشارہ بنو نضیر کے انجام کی طرف ہے۔ اس کی وجہ سے اول تو یہ ہے کہ بنو نضیر کی مثال بالکل تازہ تھی، جیسا کہ قریباً کے الفاظ سے واضح ہے۔ دوسری یہ ہے کہ یہود کے کسی گروہ کے لیے سب سے زیادہ موثر مثال یہود ہی کے کسی گروہ کی ہو سکتی تھی۔ (ولھم عذاب الیم) یعنی دنیا میں تو وہ اس طرح کے کسی انجام سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔ یہ امریہاں واضح رہے کہ بنو قریظہ دنیا میں بھی بنو نضیر کی نسبت کہیں زیادہ سخت انجام سے دو چار ہوئے اور آخرت میں ان کے سامنے جو کچھ آنیوالا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
Top