Ashraf-ul-Hawashi - Hud : 77
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ
كَمَثَلِ : حال جیسا الَّذِيْنَ : جو لوگ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل قَرِيْبًا : قریبی زمانہ ذَاقُوْا : انہوں نے چکھ لیا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ : اپنے کام کا وبال وَلَهُمْ : اور ان کے لئے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
یہ انہی لوگوں کے مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
کمثل ................ عذاب الیم (95 : 51) ” یہ انہی لوگوں کے مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے “۔ واقعہ بنی قینقاع غزوہ بدر سے قبل ہوا تھا۔ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان عہد تھا۔ جب مسلمان نے بدر میں مشرکین پر غلبہ پالیا تو یہودیوں کو یہ بات بہت ہی بری لگی۔ اور انہوں نے مسلمانوں کی اس عظیم فتح کو دل سے قبول نہ کیا اور جل بھن گئے۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ مدینہ میں مسلمان جس قدر قوت پکڑتے ہیں اس قدر ان کی اہمیت گھٹتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ جو باتیں کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کو ان کی رپورٹیں ملتی رہتی تھیں کہ یہ کسی شرکا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو حضور اکرم ﷺ نے ان کو بارہا نصیحت کی اور غداری کے انجام سے ڈرایا۔ تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی نصیحت کا بڑا سخت جواب دیا جس کے اندر ایک دھمکی مضمر تھی۔ انہوں نے کہا ” محمد ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم تمہاری قوم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے ایک ایسی قوم سے جنگ کی جن کو جنگ کا تجربہ نہ تھا اور تم نے ان کو مار لیا۔ ہم ایسے ہیں کہ اگر خدا کی قسم تم نے ہم سے لڑائی کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں “۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک عرب خاتون کچھ سامان لے کر آئی اور اسے فروخت کیا۔ یہ سامان اس نے بازار بنی قینقاع میں فروخت کیا۔ اس کے بعد وہ ایک سنار کے پاس بیٹھ گئی تو انہوں نے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرلیا اور کہا کہ وہ چہرہ کھولے ، اس نے انکار کردیا۔ سنار نے شرارت کرکے اس کی چادر کا پچھلا حصہ اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرمگاہ ننگی ہوگئی۔ یہ اس کے ساتھ ہنسے۔ اس نے فریاد کی۔ ایک مسلمان شخص اٹھا اور اس نے سنار کو قتل کردیا۔ تمام یہودی جمع ہوئے اور انہوں نے مسلمان کو قتل کردیا۔ چناچہ مسلمانوں نے مسلمانوں کو پکارا۔ اس پر مسلمانوں کو بہت ہی غصہ آیا۔ چناچہ ان کے اور بنی قینقاع کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیئے کہ آپ جو فیصلہ کریں ، اس پر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ان کی طرفداری میں کھڑا ہوگیا۔ کیونکہ بنی قینقاع اور خزرج کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ منافقین دراصل کفار اہل کتاب کے بھائی تھے۔ بڑی کشمکش کے بعد رسول اللہ ﷺ ہوگئے کہ ان کو قتل کرنے بجائے جلاوطن کردیا جائے اور یہ کہ وہ اپنے ساتھ اموال اور سامان لے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ اور یہ لوگ شام کو چلے گئے۔ یہ واقعہ تھا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ یہ بنی نضیر بھی بنی قینقاح کی طرح ہیں اور منافقین ان کے بھائی ہیں اور ان کے بھی بھائی تھے۔ منافقین نے اپنے بھائی کافر اہل کتاب کو دھوکہ دیا کہ وہ مقابلہ کریں ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن ان کا یہ انجام ہوا اور انہوں نے کوئی ساتھ بھی نہ دیا۔ یہاں ان کی ایک دائمی تمثیل دی جاتی ہے کہ منافقین جو کچھ کرتے ہیں بعینہ وہی شیطان کرتا ہے اور جو لوگ شیطان کی سنتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔
Top