Tafseer-e-Majidi - Al-Hashr : 15
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ
كَمَثَلِ : حال جیسا الَّذِيْنَ : جو لوگ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل قَرِيْبًا : قریبی زمانہ ذَاقُوْا : انہوں نے چکھ لیا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ : اپنے کام کا وبال وَلَهُمْ : اور ان کے لئے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
(ان کی) مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ان کے کچھ ہی قبل ہوئے ہیں، جو اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے،25۔
25۔ (آخرت میں، جو اس دنیوی سزا کے علاوہ ہوگا) یہ حال یہود بنی نضیر کا بیان ہورہا ہے، اور انہیں کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” کمثل “۔ یعنی یہود بنی نصیر کی مثال۔ تشبیہ محرومی دارین میں ہے۔ (آیت) ” الذین من قبلھم قریبا “۔ یعنی یہود بنی قینقاع۔ یہ بھی مدینہ وحوالی مدینہ میں آباد تھے، 2 ھ ؁ غزوۂ بدر کے بعد اس قبیلہ نے بدعہدی کرکے رسول اللہ سے محاربہ کیا، مغلوب ہوئے اور پھر جلاوطن۔ عن ابن عباس یعنی بنی قینقاع (ابن جریر) بعض نے مراد اہل بدر سے بھی لی ہے۔ عن مجاھد قال کفار قریش (ابن جریر) (آیت) ” وبال امرھم “۔ یعنی عداوت رسول کا خمیازہ۔
Top