Madarik-ut-Tanzil - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)
مضبوط سلطنت ‘ فیصلہ کن خطاب : 20: وَ شَدَدْنَا مُلْکَہٗ (اور ہم نے ان کی سلطنت کو مضبوط کردیا) ان کے ملک کو مضبوط کردیا۔ ایک قول یہ ہے آپ کے قلعہ کے گرد تینتیس ہزار آدمی بطور حفاظت مقر ر تھے۔ وَاٰتَیْنٰـہُ الْحِکْمَۃَ (اور ہم نے ان کو حکمت) حکمت سے مراد زبور اور شریعت کا علم ایک قول ہے کہ ہر موافق حق کلمہ حکمت کہلاتا ہے۔ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطاء فرمائی) فیصلہ کرنے کا علم اور جھگڑا طے کرنے کی اہلیت اور حق و باطل میں جدائی کرنے والاعلم دیا۔ الفصلؔ دو چیزوں میں امتیاز کو کہا جاتا ہے کلام بین کو فصل بمعنی مفصول کہا جاتا ہے جیسا کضرب الا میر اے مضروب الامیر۔ فَصْلَ الْخِطَابِ : ایسا واضح کلام جس سے مخاطب پر بات کھل جائے اور ذرا التباس نہ رہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ فصل کو فاصل اسم فاعل کے معنی میں لیاجائے جیسا کہ صوم بمعنی صائم ؔ اور الزور بمعنی زائرؔ آتا ہے۔ اس صورت میں فصل الخطاب کا معنی وہ فیصلہ کن خطاب جو صحیح وفاسد اور حق و باطل میں جدائی کردے۔ اس سے آپ کا وہ کلام مراد ہے جو فیصلوں اور جھگڑوں اور تدابیر مملکت اور مشوروں کی صورت میں آپ نے فرمایا۔ قول علی ؓ : وہ مدعی پر دلیل سے حکم لگانا اور یمین سے مدعیٰ علیہ کے متعلق فیصلہ کرنا۔ یہ حق و باطل میں فاصلہ کرنا ہے۔ (یعنی مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ اگر گواہ نہ ہو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی) ۔ قولِ شعبی (رح) : کہ فصل الخطاب سے اما بعدؔ کا لفظ مراد ہے کہ حمد وثنا اور اپنے کلام میں فاصلہ کرتا ہے اور دائو دعلیہ السلام نے سب سے پہلے کہا گویا غرض کلام اور حمد وثناء میں فاصلہ کرنے والا ہے۔
Top