Bayan-ul-Quran - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار زبردست فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں (جس میں نبوت بھی داخل ہے) ۔ (ف 4)
4۔ یعنی نبوت ایک امر عظیم ہے، اس کے عطا کے لئے معطی کا مالک الخزائن اور شدید الغلبہ اور کثیر المواہب ہونا لازم ہے۔ سو اس طرح اگر یہ ان کے اختیار میں ہوتا تو ان کو اس کہنے کی گنجائش تھی کہ ہم نے بشر کو نبوت نہیں دی، پھر وہ نبی کیسے ہوگیا، یا ہم نے فلان بشر کو دی اور فلان کو نہیں دی، اس صورت میں یہ کہنا ان کا زیبا تھا۔
Top